بش جوچاہتے، دنیا نہیں چاہتی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی رہنما جناب محمود عباس نے کہا ہے کہ وہ حماس کوحکومت بنانے کی دعوت دیں گے۔ واضح رہے کہ حالیہ انتخابات میں حماس نے 132 کے ایوان میں 76 نشتیں حاصل کی ہیں اور حکومت سازی کا اسے جمہوری حق حاصل ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی دھمکیوں کے باوجود کہ ’وہ ایسی کسی فلسطینی حکومت سے بات چیت نہیں کریں گے جو حماس نے بنائی ہو یا جس میں حماس شریک ہو، جناب محمود عباس کی جانب سے یہ اعلان نہ صرف ان کی جمہوریت پسندی کو اجاگر کرتا ہے بلکہ اس بات کو بھی کہ وہ حماس کی حکمت عملی کے مخالف ہونے کے باوجود فلسطینی عوام کی مرضی و منشاء کو ہر چیز پر مقدم جانتے ہیں اور اس سے کسی قیمت پر انحراف نہیں کریں گے۔ یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ صدر بش امن اور جمہور یت کے فروغ کے لئے جو اقدام کرتے ہیں اس کا اثر ان کے حق میں الٹا پڑتا ہے۔ انہوں نے افغانستان کو طالبان کی ’انتہا پسند‘ اور’ جمہوری قدروں کی مخالف‘ حکومت سے نجات دلانے کی کوشش کی اور وہاں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات بھی کرا دیئے لیکن افغانستان جوں کا توں ہے۔
عراق میں صدر بش نے پہلے وسیع تباہی والے ہتھیاروں کی تلاش کے لیئے اور بعد میں جمہوریت کے فروغ کے لیئے اپنے ڈیڑھ لاکھ فوجی داؤ پر لگا دیئے، انتخابات بھی کرا دیئے لیکن نہ اللذی نہ اللذی ، خود کش حملے بھی جاری ہیں اور حکومت سازی میں جو دشواریاں پیش آرہی ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر حکومت بن بھی گئی تو اتنی ہی بے اثر ثابت ہوگی جتنی افغانستان کی۔ دوسری جانب امریکی محکمئہ دفاع پنٹاگن کے ایما پر تیار کی جانے والی ایک رپورٹ میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ امریکی فوج کی ذمہ داریاں افغانستان اور عراق میں اتنی پھیل گئی ہیں کہ خطرہ ہے کہیں وہ شرپسندوں کا قلع قمع کیئے بغیر خود نہ ٹوٹ جائے۔ ایران میں انہیں امید تھی کہ صدارتی انتخاب میں کوئی ایسا امیدوار منتخب ہوجائے گا جس سے کچھ راہ رسم ممکن ہو سکے گی تو وہاں جناب احمدی نژاد منتخب ہوگئے جو یوں تو انتہائی منکسر المزاج لگتے ہیں لیکن امریکہ اور اسرائیل کا ذکر ہو تو للکارنے لگتے ہیں۔ اور تو اور خود لاطینی امریکہ میں بولیویا جو اچھا خاصہ باجگزار چلا آرہا تھا اچانک اکڑگیا ۔اس کے نومنتخب صدر ایوو موریلز وینزولا کے صدر شاویز سے بھی دو ہاتھ آگے نکلے ، انہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی نہ صرف وینزولا سے دو چار سمجھوتے کرلیئے بلکہ یہ بھی اعلان کردیا کہ کوکو کی کاشت دوبارہ شروع کی جائے گی اس لیئے کہ یہ ہماری روایتی پیداوار ہے اور اس پر ہماری معیشت کا انحصار ہے۔
اب یہ عجیب ستم ظریفی ہے کہ امریکہ پچاس سال سے کوشش کرہا ہے کہ کسی طرح لاطینی امریکہ کو اپنے مخالفین سے پاک رکھے لیکن بولیویا میں مسٹر موریلز کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ صدر بش سوچتے کچھ ہیں ہوتا کچھ ہے۔ ِادھر اخباری اطلاعات کے مطابق یورپ میں امریکی سی آئی اے کے مبینہ عقوبت خانوں کے بارے میں انسانی حقوق کی 48 ملکی تنظیم کونسل آف یورپ نے جو تحقیقات کرائی ہیں اس کی رپورٹ بھی آنے والی ہے اور اس میں اخباری اطلاعت کے مطابق سی آئی کی حکمت عملی کو مبینہ طور پر ’داداگیری‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اگر یہ صحیح ہے تو اس سے امریکی حکام کو نہ صرف اپنے یورپی دوستوں کے سامنے شرمندگی ہوگی بلکہ دوسر ملکوں میں بھی سی آئی اے کی سرگرمیوں کے بارے میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ ہوسکتا ہے۔ باالخصوص پاکستان میں جہاں ایک امریکی جریدے کے مطابق سی آئی اے کے ایجنٹ دندناتے پھر رہے ہیں اور پاکستان کی حکومت انہیں ہر طرح کا تعاون فراہم کر رہی ہے۔ وزیرستان پر امریکہ کا میزائیلی حملہ اس کی ایک مثال ہے۔ ا
اس موقع پر مجھے ممتاز افسانہ نگار غلام عباس مرحوم کا ایک افسانۃ یاد آتا ہے جو میں نے اپنی طالب علمی کے زمانے میں پڑھا تھا۔ اس کا عنوان تو مجھے یاد نہیں لیکن کہانی کچھ یوں تھی کے ایک شخص اپنے گھر پر جواء کھلاتا تھا اور شہر کے کھاتے پیتے لوگ وہاں رات کو چھپ چھپا کر پہنچ جاتے، جواری کا کہنا تھا کہ علاقے کا تھانیدار اس کا دوست ہے اس لئے شہر کے ان شرفاء کی عزت کو کوئی خطرہ نہیں۔ اتفاق سے ایک دن رات کو پولیس نے چھاپہ ماردیا۔ جواریوں میں افراتفری مچ گئی لیکن اس شخص نے ان کو تسلی دی کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں تھانیدار اس کا دوست ہے۔ تھانیدار نے سارے جواریوں کو مکان کے احاطے میں لائن میں کھڑا کیا، سب نے اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا اس نے اشاروں میں پھر انہیں مطمئن کردیا کہ فکر کی کوئی بات نہیں تھانیدار اس کا دوست ہے۔ پھر تھانیدار نے حکم دیا کے سارے جواری پیٹ کے بل زمین پر لیٹ جائیں جواریوں نے پھر اس شخص کی طرف دیکھا۔ اس نے پھر تسلی دی اور خود زمین پر پیٹ کے بل لیٹ گیا۔ اس کے بعد تھانیدار نے حکم دیا کے سارے جواریوں کے جوتے لگائے جائیں اور جوتے لگائے گئے اس کے بعد تھانیدارجواریوں کوتنبیہ کرکے اوردھمکی وغیرہ دے کر اپنے عملے کے ساتھ چلا گیا اور اس شخص نے سارے جواریوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’دیکھا میں نہ کہتا تھا کہ تھانیدار میرا دوست ہے اور کسی کو کوئی گزند نہیں پہنچے گا۔‘ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کا جب ذکر آتا ہے پتہ نہیں کیوں یہ کہانی مجھے یاد آجاتی ہے۔ بات صدر بش کی ہورہی تھی اور میں کہہ رہا تھاکہ یوں لگتا ہے کہ صدر بش جس رخ پر دنیا کو لے جانا چاہتے ہیں وہ اس کی مخا لف سمت میں چلنے پر بضد ہے، اس کے کچھ اثرات تو سامنے آئے ہیں اور کیا سامنے آنا ہے اس کے تصور سے بھی جی ڈرتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||