’ کچھ ایسے کام بھی کیجیے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ دنوں ایک انگریزی روزنامے میں ایڈیٹر کے نام ایک خاتون کا مراسلہ شائع ہواجس میں شکایت کی گئی تھی کہ حیدرآباد سندھ کے نیاز اسٹیڈیم میں ایک شادی کی تقریب ہوئی جس میں پانچ ہزار مہمانوں کو کھانا کھلایا گیا۔ اس مقصد کے لیے سو دیگوں میں کھانا تیار کیا گیا اور مہمانوں کے بیٹھنے اور کھانے کے لیے عین کرکٹ پچ پر شامیانے اور قناتیں لگائیں گئیں جس سے پچ خراب ہوگئی اور دیگیں پکانے کا انتظام بھی اسٹیڈیم میں ہی کیا گیا تھا جس سے اسٹیڈیم کی گھاس جل گئی۔ مراسلہ نگار خاتون نے یہ بھی شکایت کی تھی کہ اس دعوت کا اہتمام ایک وفاقی وزیر نے کیا تھا۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اسٹیڈیم کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار کون ہے ، حیدر آباد کی انتظامیہ یا وزیر موصوف۔ چند دنوں بعد اسی روزنامے میں ایک اور صاحب کا مراسلہ شائع ہوا جس میں پہلے مذکورہ مراسلے میں اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس ملک میں بااثر لوگ ہر وہ کام کر سکتے ہیں جس کی ممانعت ہے، اس لیے کہ وہ اس ملک کے حاکم ہیں۔ وہ مسلح محافظوں کے جلو میں اسمبلیوں کی عمارت میں داخل ہوسکتے ہیں، جس کی دل چاہے، جب دل چاہےاور جہاں دل چاہے دن دھاڑے مرمت کرا سکتے ہیں، سپریم کورٹ کی عمارت پر انتہائی بے شرمی سے حملہ کر سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اسی سلسلے میں ایک ٹی وی چینل پر انصاف پارٹی کے سربراہ اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان جناب عمران خان کا انٹرویو سننے کا بھی اتفاق ہوا جس میں انہوں نے کہا کہ اس ملک کا المیہ ہی یہ ہے کہ یہاں قانون کی خلاف ورزی وہی لوگ کرتے ہیں جو قانون بناتے اور اسکے نفاذ اور تحفظ کے ذمہ دار ہیں۔ جہاں تک اسٹیڈیم کی کرکٹ پچ اور گھاس کو پہنچنے والا نقصان ہے تو اس کا ازالہ ہوجائے گا۔ اس لیے کہ کرکٹ کی نئی پچ بھی بن سکتی ہے اور گھاس بھی دوبارہ لگائی جا سکتی ہے لیکن اس دعوت سے اس قانون کی جو خلاف ورزی ہوئی ہے جس کے تحت شادی کی دعوتوں کو سادہ رکھنے کی تلقین کی گئی ہے اس کا ازالہ صرف ایک ہی صورت میں ہوسکتا ہے کہ وزیر موصوف کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے اور انہیں کیفر کردار کو پہنچایا جائے۔ میں عمران خان کی اس بات سے سو فیصد متفق ہوں کہ پاکستان میں قانون کی خلاف ورزی جتنی با اختیار لوگوں کی جانب سے ہوتی ہے اتنی عام لوگ نہیں کرتے۔ یہ بااثر لوگ نماز ہمیشہ پہلی صف میں پڑھتے ہیں لیکن قانون اور انصاف پر عمل درآمد میں پیچھے کھڑے نظر آتے ہیں بلکہ جہاں قانون اور انصاف کی بات ہو وہاں نظر ہی نہیں آتے۔ کہا جاتا ہے کہ خلفائے راشدین کے زمانے میں لوگ پیوند لگے ہوئے کپڑے پہننے میں شرمندگی محسوس نہیں کرتے تھے اور ان کے دسترخوان وسیع ہوتے تھے لیکن خوراک سادہ ہوتی تھی۔ پھر وہ دور آیا جب انکساری کی جگہ شاہانہ ٹھاٹ باٹ نے لے لی، ریشم و اطلس پوشاک کے لیے استعمال کئے جانے لگے اور اگرچہ دسترخوان مرغن غذاؤں سے بھر گئے لیکن ان کی وسعت اتنی کم ہوگئی کہ ان پر صرف خوشامدی اور چاپلوس ہی بیٹھ سکتے تھے۔ قصہ مختصر یہ کہ بااثر اور بااختیار افراد سے ہی عام لوگ سبق سیکھتے ہیں اور اپنی زندگی کو انہی کے رنگ میں رنگنا چاہتے ہیں۔ آج پاکستان میں جو بدعنوانی کا دور دورہ ہے یا سرکاری دفاتر میں دفع الوقتی اور کام چوری کا رجحان عام ہے، اس کی بنیادی وجہ ہی یہ ہے کہ کسی ماتحت کو یہ فکر نہیں ہے کہ وہ بدعنوانی یا کام چوری کے الزام میں پکڑا جائے گا اس لیے کہ اس کا افسر یا اس کے محکمے کا سربراہ خود اس سے زیادہ کام چور اور بدعنوان ہے۔ ایک بار میں اپنے شناسا ایک افسر کے کمرے میں صبح صبح پہنچا تو معلوم ہوا کہ وہ دیر سے آنے والے اپنے عملے کی ایک طویل فہرست سامنے لیے بیٹھے ہیں، باری باری ہر ایک کو بلاتے ہیں اور اس کی سرزنش کرتے ہیں۔ میں نے جب دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ وہ خود کئی مہینے بعد وقت پر دفترآئے تھے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں کوئی کام قانونی طریقے سے یا ضابطوں میں رہتے ہوئے کرنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا رشوت دے کر یا سفارش کے ذریعے کرانا آسان ہے۔ اب آپ شراب کوہی لے لیں، اس کی عام فروخت پر پابندی ہے لیکن نہ شراب پینے والوں نے پینا بند کیا ہے نہ اس کا کاروبار ماند پڑا ہے، صرف یہ ہوا ہے کہ بااثر حضرات کو جب جہاں اور جس قسم کی بھی ضرورت ہو مہیا ہوجاتی ہے باقی ٹھروں یا ’خانہ ساز‘ پر گزارا کرتے ہیں جو کبھی کبھی مہلک بھی ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح اپنے صدر پرویز مشرف صاحب پانی کے ذخائر بنانے پر تلے ہوئے ہیں اور عین ممکن ہے کہ بنا بھی لیں لیکن پانی کی بربادی جو کچی نہروں اور رستے ہوئے نلوں اور پائپوں کے ذریعے ہوتی رہتی ہے اس کے روکنے کی کوئی ترکیب نہیں کرتے جبکہ قدرتی وسائل کو اس طرح ضائع کرنا بجائے خود ایک جرم ہے۔ میں نے بیشتر سرکاری عمارتوں کے غسلخانوں کے نل ٹپکتے ہوئے اور گندے پانی کی نالیاں بند دیکھی ہیں۔ اسی طرح میں جس سڑک پر روز صبح کو ٹہلنے جاتا ہوں اس پر کئی نلوں سے پانی بہتا رہتا ہے اور اردگرد کے مکانوں میں پانی کی فراہمی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ اب پانی کے ذخائر بنانے کے لیے تو سارے صوبوں میں اتفاق رائے کی ضرورت ہے پھر سرمائے کا بھی انتظام کرنا پڑے گا، بڑے بڑے قرض بھی لینے پڑیں گے۔ میں کہتاہوں یہ بھی کرتے رہیں اور رستے ہوئےنلوں کی مرمت اور گندے پانی کی نالیاں کھولنے کابھی حکم جاری کریں۔اس طرح 2016 تک وہ اچھا خاصا پانی اگر ذخیرہ نہ بھی کرسکیں تو بچانے اور صحیح طور پر استعمال کرنے میں کامیاب ضرور ہوجائیں گے۔ انہیں اپنے وزیروں کو بھی سمجھانا چاہیے کہ اپنے بیٹے ، بیٹیوں کی شادی میں پانچ پانچ ہزار آدمیوں کی دعوت نہ کریں اور اگر کرتے ہیں تو ان کے لیے سو سو دیگیں نہ پکوائیں۔ کم از کم ان ہزاروں بے سروسامان زلزلہ زدگان کے ٹھکانے لگنے تک تو اپنے جاہ و جلال کی اس کھوکھلی نمائش سے باز رہیں۔ ان کو یہ بھی بتائیں کہ ایسی گھٹیا حرکتوں سے حکومت بدنام ہوتی ہے بالخصوص اگر وہ جمہوری ہونے کی دعویدار بھی ہو۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کچھ توایسے کام بھی صدر صاحب کو کرنے چاہئیں جن سے اختلاف یا نفاق کی کوئی صورت پیدا نہ ہو۔ جنہیں کرنے کے لیے بیرونی قرضوں کی ضرورت نہ پڑے، ایسے کام جن کو کرنے میں ان کی حکومت کو مزاحمت کے بجائےمعاونت ملے۔ | اسی بارے میں کالاباغ: فریقین میں اعتماد کا فقدان24 December, 2005 | قلم اور کالم فارورڈ بلاک یا ذاتی اختلافات17 December, 2005 | قلم اور کالم کشمیر: پاکستان کی سفارتی یلغار26 November, 2005 | قلم اور کالم سارک دنیا کا سب سے بڑا بلاک12 November, 2005 | قلم اور کالم زلزلے سے کیا سیکھا جا سکتا ہے05 November, 2005 | قلم اور کالم ایک ذرا دیانتداری چاہیے29 October, 2005 | قلم اور کالم جھٹکے ہیں کہ رکتے ہی نہیں15 October, 2005 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||