زلزلے سے کیا سیکھا جا سکتا ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراعظم جناب شوکت عزیز نے اعلان کیا ہے کہ زلزلے سے پیدا ہونے والی صورتحال کو ملک کے ترقیاتی پروگرام اور دفاعی بجٹ پر اثر انداز نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ان کے الفاظ میں ’نہ ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی ہوگی نہ دفاعی بجٹ میں کمی کی جائے گی‘۔ انہوں نے یہ بڑی اچھی بات کہی ہے۔ لیکن اگر یوں کہتے کہ ملک کی سلامتی کو خطرے میں نہیں پڑنے دیا جائے گا چاہے اس کے لیے ترقیاتی پروگرام میں کٹوتی اور دفاعی بجٹ میں کمی ہی کیوں نہ کرنی پڑے تو یہ زیادہ اچھی بات ہوتی اور اور زلزلے کے متاثرین سمیت ملک کے عوام کو یہ اطمینان ہوتا کہ ان کی حکومت کے نزدیک ملک کی سلامتی کو ہر چیز پر فوقیت حاصل ہے اور اس کے لیے اسے اگر بعض مشکل فیصلے بھی کرنے پڑے تو وہ کرے گی۔ ادھرصدر پرویز مشرف کی سمجھ میں غالباًً یہ نکتہ آگیا ہے چنانچہ انہوں نے امریکہ سے ایف 16 لڑاکا طیارے خریدنے کا ارادہ فی الحال ملتوی کردیا ہے اور تمام تر توجہ زلزلے سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے پر مرکوز رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ امداد کی فراہمی کے سلسلے میں دنیا کے معیار مختلف ہیں۔ بقول ان کے اگر یورپ اور امریکہ اس آفت ناگہانی کا شکار ہوتے تو امداد کا معیار اس سے مختلف ہوتا جو پاکستان کے زلزلہ زدگان کے لیے روا رکھا گیا ہے۔ بالکل فارسی کے ایک شعر کے مصداق جس کا مفہوم یہ ہے کہ ’میرے معشوق کا برتاؤ ہر ایک کے ساتھ اس کی اوقات کے مطابق ہے ۔ میرے ساتھ شراب پیتا ہے اور زاہد کے ساتھ نماز پڑھتا ہے‘۔ میں جناب پرویز مشرف کو اس دانشمندانہ فیصلے پر مبارک باد دیتے ہوئے انہیں مشورہ دونگا کہ وہ اس سودے کو ملتوی کرنے کے بجائے منسوخ ہی کردیں اور اس رقم سے جو ان طیاروں کی خریداری پر خرچ کی جانے والی تھی وہ سارا سامان خرید ڈالیں جو اس طرح کی آفات سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے درکار ہوتا ہے۔ اب مجھے صحیح اندازہ تو نہیں ہے لیکن اطلاعات کے مطابق ایک ایف ۔16 کی قیمت کوئی چالیس ملین ڈالر ہے اور شاید پچاس یا 75 خریدنے کا ارادہ تھا یعنی کوئی دو تین ارب ڈالر کا سودا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس رقم سے پاکستان کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں فائر بریگیڈ کے ایسے اسٹیشن قائم کیے جاسکتے ہیں جو اس طرح کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جدید ترین آلات سے لیس ہوں۔ میری نظر میں زلزلے کا یہ ایک بڑا مثبت نتیجہ نکلا ہے کہ کم از کم صدر مشرف کو یہ تو احساس ہوا کہ دو تین ارب ڈالر اس مد میں ضائع کرنے کی فی الحال ضرورت نہیں ہے۔ اگرچہ مولوی حضرات، وہ کسی مذہب و مسلک سے تعلق رکھتے ہوں اللہ کے غضب سے ڈرانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، حالانکہ میں ذاتی طور پر اس بات میں یقین رکھتا ہوں کہ قدرت کا غضب بھی اس کی رحمت سے خالی نہیں ہوتا بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ بظاہر جن واقعات اور حادثات میں ہمیں اپنی انفرادی یا ذاتی تباہی اور بربادی نظر آتی ہے اس کا مقصد بھی ہماری اجتماعی اصلاح ہی ہوتا ہے۔ اب پاکستان میں ابتداء سے ہی بعض لوگ ارباب حل وعقد کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتے چلے آرہے ہیں کہ اپنے وسائل پر انحصار کریں اور دوسروں پر تکیہ کرنے سے گریز کریں، لیکن نہ صرف ان کی بات پر کسی نے کان نہیں دھرا بلکہ انہیں ملک دشمن اور غدار جیسے القاب سے بھی نوازتے رہے۔ لیکن اللہ کی شان دیکھئے کہ زلزلے کے ایک ہی جھٹکے نے یہ احساس دلا دیا کہ صاحب دنیا کے مدد امداد کے معیار دہرے ہیں اور ایف۔ 16 طیارے کی خریداری سے زیادہ ضروری زلزلے سے متاثرہ علاقے کی تعمیر نو ہے۔
اس زلزلے سے یہ بھی اندازہ ہوگیا کہ اس ملک میں ایسی بھی دیہی آبادیاں ہیں جہاں دشمن کے حملے یا اسطرح کی بلائے ناگہانی سے بچاؤ کے لیے پہنچنا محال ہے۔ ان تمام بستیوں کو ایسا مواصلاتی نظام فراہم کرنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ وہ ایسی کسی بھی صورتحال میں متعلقہ محکموں سے رجوع کر سکیں اور متعلقے محکمے ان تک پہنچ سکیں۔ ایک اور فائدہ اس زلزلے سے یہ ہوا ہے کہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول کھولنے پر دونوں ملکوں میں اتفاق رائے ہوگیا ہے، جو اس کے بغیر بھی ہوسکتا تھا لیکن شائد اتنی آسانی سے نہیں ہوتا۔ پھر دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ زلزلے پاکستان کے ہوں یا ہندوستان کے دونوں ملکوں میں قربت بڑھانے کا باعث بنے ہیں۔ پاکستان نے بھی گجرات کے زلزلے کے متاثرین کے لیے امدادی سامان بھیجا تھا۔ اب امید کی جانی چاہیے کہ ایک دوسرے کی مدد یا ایک دوسرے سے تعاون کا یہ سلسلہ عام حالات میں بھی جاری رہے گا، اس کے لیے صرف زلزلے یا اسی طرح کی کسی اور آفت سماوی کا انتظار نہیں کیا جائے گا۔ ایک اور بات جو سامنے آئی ہے وہ یہ کہ اس ملک میں جتنی عمارتیں بنی ہیں، نجی شعبے کی ہوں یا سرکاری شعبے کی، وہ ظاہری طمطراق اور شان شوکت کی علامت تو ہیں لیکن ان کی بنیادوں پر کچھ زیادہ توجہ نہیں دی گئی ہے۔ ان کو اور آئندہ جو عمارتیں بنائی جائیں ان کے رنگ روغن سے زیادہ ان کی بنیاد پر توجہ دی جانی چاہیے۔ پھر محکمۂ تعمیرات کے حکام کو چاہیے کہ وہ عمارتوں کی تعمیر میں حفاظتی اصولوں اور ضابطوں پر سختی سے عمل کریں اور کرائیں۔ اگر وہ ٹھیکہ داروں سے رشوت بھی لیتے ہیں تو اس بات کی نہ لیں کہ وہ عمارت کی تعمیر میں جیسا مصالحہ دل چاہے استعمال کریں بلکہ اس بات کی رشوت لیں کہ اگر ان کی مٹھی گرم نہیں کی گئی تو وہ ٹھیکہ دار کو یہ نہیں بتائیں گے اس کی تعمیرکردہ عمارت میں کیا نقص رہ گیا ہے۔ اس طرح متعلقہ افسر کو بھی نقصان نہیں ہوگا ، ٹھیکہ دار بدنامی سے بچ جائے گا اور خریدار یا اس عمارت میں رہنے والے اس کے ملبے کے نیچے دب کر مرنے کے بجائے آرام اور اطمینان سے اپنی باری کا انتظار کر سکیں گے۔ میرے کہنے کا مطلب صرف اتنا ہے کہ زلزلے کی تباہ کاریوں اور ہلاکتوں پر غم اور افسوس اپنی جگہ ، اگر اس سے کوئی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے تو صرف یہ کہ ایسے منصوبے بنائے جائیں جن سے آئندہ اگر کوئی زلزلہ آئے تو نقصان اور ہلاکتیں اتنی نہ ہوں جتنی کے اس بار ہوئی ہیں۔ |
اسی بارے میں ’امدادی ادارے تھک چکے ہیں‘05 November, 2005 | پاکستان ’اصل کام جینے کی نئی امنگ دیناہے‘ 05 November, 2005 | پاکستان ہر چہرہ پریشان، ہر کہانی دکھ بھری04 November, 2005 | پاکستان مغرب کے معیار دوہرے ہیں: مشرف04 November, 2005 | پاکستان زلزلہ: رنج و غم تلے دبی ہوئی عید 03 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||