کشمیر: پاکستان کی سفارتی یلغار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ایک اچھی بات یہ ہوئی ہے کہ قومی اہمیت کے ایسے موضوعات پر بھی اب کھلے عام اخبارات اور ٹی وی کے مختلف چینلوں پر بحث مباحثہ ہوتا رہتا ہے جو چند برسوں پہلے تک شجرِ ممنوعہ تصور کیے جاتے تھے۔ آج کل جس موضوع پر اخبارات اور ٹی وی میں بڑی گرما گرم بحث ہورہی ہے وہ کشمیر کا مسئلہ ہے ، بالخصوص اس سے متعلق پاکستان کی پالیسی اور اسی سلسلے میں ہندوستانی حکومت کا رویہ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی موجودہ حکومت نے اس مسئلے کو حل کرنے میں گہری دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے اور اس سلسلے میں ہندوستان پر ایک سفارتی یلغارشروع کر رکھی ہے بلکہ روایتی ڈگر سے ہٹ کر نت نئی تجاویز بھی پیش کی جاتی رہی ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ حکومت ہندوستان سے تعلقات بڑھانے کے لیے اس مسئلے پر کسی ٹھوس پیش رفت کو ضروری بتاتی ہے۔ ادھر ہندوستان کی حکومت کے بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ پاکستان سے تجارتی اور ثقافتی تعلقات کو بڑی اہمیت دیتی ہے لیکن اس کے لیے کشمیرکے مسئلے کا حل لازمی تصور نہیں کرتی اور نہ اس کو کسی طرح بھی اس مسئلے سے مشروط کرنا چاہتی ہے۔ خود پاکستان میں حکومت کی پالیسی کو بعض حلقوں میں شک و شبہے کی نظر سے دیکھا جارہا ہے باالخصوص مذہبی جماعتوں کی جانب سے حکومت کی اس پالیسی پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ بعض اخبارات میں بھی جو پہلے سول اور فوجی نوکرشاہی کے ترجمان تصور کیے جاتے تھے حکومت کی اس پالیسی پر بڑے سخت الفاظ میں نکتہ چینی کی جارہی ہے۔ اب یہ پتہ نہیں کہ وہ اب بھی ان حلقوں کے ترجمان تصور کیے جاتے ہیں یا نہیں لیکن یوں لگتا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو وہ بھی جوں کا توں رکھنے کے اتنے ہی خواہشمند ہیں جتنا کہ ہندوستان کی حکومت، اگر کوئی فرق ہے تو صرف اتنا کہ ہندوستانی حکومت ہر پاکستانی تجویز یا پیش قدمی کو ٹال جاتی ہے یا غیر اہم اور ناقابل عمل ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے اور پاکستان کے یہ ہندوستان مخالف عناصر اس کو کشمیری عوام سے پاکستانی حکومت کی غداری یا امریکی سازش تصور کر کے رد کر دیتے ہیں۔ ان کا غالباً یہ خیال ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اگر موجودہ سفارتی کوششوں اور بات چیت کے نتیجے میں حل ہوا تو یہ ہندوستان کے حق میں ہوگا لیکن اگر یہ کہا جائے تو بہت زیادہ غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان اور ہندوستان کی خاموش اکثریت کی یہ خواہش ہے کہ کسی طرح ہو، اس مسئلے کو حل کیا جانا چاہیے، چاہے اس کے لیے دونوں حکومتوں کو اپنا روایتی موقف ترک ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ ان کی یہ خواہش بھی ہے کہ اس مسئلے کا جو بھی حل نکالا جائے اس میں کشمیری عوام کی شرکت ایک فریق کے طور پر ہونی چاہیے۔ ان کے نزدیک اگر کشمیری عوام اور قیادت کے بغیر اس مسئلے کا حل ڈھونڈا گیا تو یہ حل نہ صرف ناپائیدار ہوگا بلکہ عین ممکن ہے کہ پیچیدگیاں اور بڑھ جائیں۔ ادھر غالباً صدر پرویز مشرف کو بھی یہ اندازہ ہوگیا ہے کہ اگر وہ کشمیر کا قضیئہ طے کرانے میں کوئی پیش رفت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو وہ 2007 کے بعد بھی اپنے اقتدار کو برقرار رکھ سکتے ہیں اور غالباً ان کی یہ کوشش ہے کہ کسی طرح کوئی ایسی صورت پیدا ہوجائے کہ وہ سبکی اٹھائے بغیر اس مسئلے سے نمٹنے میں کامیاب ہوجائیں۔ اس سلسلے میں پاکستان کی طرف سے کشمیری عوام کو داخلی خودمختاری دینے اور ریاست کو غیر فوجی علاقہ بنانے کی کی جو تازہ ترین تجویز سامنے آئی ہے وہ میرے نزدیک نہ صرف اس مسئلے کے حل کی جانب ایک بڑی پیش رفت ہے اور اصولی طور پر یہ تجویز اس مسئلے کے ہر فریق کو مطمئن کر سکتی ہے جو کسی بھی مسئلے کے پائیدار حل کے لیے ضروری ہے۔ اگرچہ پاکستان میں اس تجویز پر بعض حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کی جا رہی ہے اور ہندوستانی حکومت کے رویے سے بھی ان عناصر کو خاصی تقویت مل رہی ہے جس نے اسے ایک طرح سے رد ہی کردیا ہے لیکن یوں لگتا ہے کہ اس تجویز نے ہندوستان اور پاکستان میں ایسے لوگوں کو یقینی طور پر متاثر کیا ہے جو دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری چاہتے ہیں۔ خود کشمیری رہنماؤں کی جانب سے ایسے بیانات دیے گئے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اس کے حق میں ہیں۔ چنانچہ ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی کمیونسٹ پارٹی مارکسسٹ کے سربراہ نے بھی اپنے ایک حالیہ بیان میں یہ کہا ہے کہ ان کی پارٹی اس مسئلے کے ہر اس حل کی حمایت کرے گی جو کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق ہو اور مذہبی بنیاد پر نہ کیا گیا ہو۔ حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمرفاروق نے بھی کچھ اس سے ملتی جلتی تجویز پیش کی ہے یعنی کشمیر کو ایک وفاق کی شکل دیدی جائے۔ یہاں پاکستان کے ایک معمر سیاسی رہنما جناب اصغر خان نے بھی جن کا کشمیر سے دیرینہ تعلق ہے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں یہ کہا ہے کہ کشمیر کو ایک آزاد ریاست بنایا جائے اور پاکستان ، ہندوستان اور چین جن کی سرحدیں اس سے ملتی ہیں اس کی آزادی کی ضمانت دیں۔ غرض کہ یہ تینوں تجاویز ایک ہی تجویز کی مختلف شکلیں معلوم ہوتی ہیں جس کا بنیادی مقصد کشمیر کو کشمیریوں کے حوالے کرنا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ میں صدر پرویز مشرف کو صحیح سمجھا ہوں یا نہیں لیکن اگر میرا یہ خیال درست ہے کہ وہ اس مسئلے کو حل کرنے میں سنجیدہ ہیں تو یہ بڑی بات ہے اور اس سلسلے میں انہیں ملک کے ایک بڑے طبقے کی حمایت بھی حاصل ہوگی اور اگر وہ اس میں کامیاب ہوگئے تو وہ وردی اگر اتار بھی دیں اور چودھری برادران کی حمایت سے محروم بھی ہوجائیں جب بھی انہیں صدارت کے عہدے سے ہٹانا مشکل ہوجائے گا۔ | اسی بارے میں زلزلے سے کیا سیکھا جا سکتا ہے05 November, 2005 | قلم اور کالم سارک دنیا کا سب سے بڑا بلاک12 November, 2005 | قلم اور کالم اللہ، آرمی اور کشمیر23 October, 2005 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||