سارک دنیا کا سب سے بڑا بلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں جنوبی ایشیا کی تنظیم سارک کا تیرہواں سربراہی اجلاس آج سے ہورہا ہے جو دو دنوں تک جاری رہےگا۔ اس اجلاس کے بارے میں عام خیال ہے کہ یہ چونکہ سونامی اور حالیہ زلزلے کی تباہی کے بعد ہورہا ہے اس لیے اس میں جو بھی فیصلے کیے جائیں گے وہ نہ صرف بڑی اہمیت کے حامل ہوں گے بلکہ وہ اس تنظیم کے مستقبل کا بھی تعین کریں گے کہ آیا یہ یونہی چلتی رہے گی جیسے کہ ابتک چلتی آئی ہے یعنی نشستند، گفتند اور برخواستند یا پھر یہ رکن ملکوں کے عوام کی ایک بلند اور پر عتماد آواز بن کر ابھرے گی جو اس کا بنیادی مقصد ہے اور اگر نہیں ہے تو ہونا چاہیے۔ اطلاعت کے مطابق اجلاس سے متعلق کمیٹی نے کوئی پچاس نکاتی ایجنڈا تیار کیا ہے جس میں زراعت اور موسمیات سے متعلق مراکز کے قیام کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ تاہم میرا اپنا خیال ہے کہ اجلاس میں ان موضوعات سے زیادہ ان موضوعات کو اہمیت حاصل رہے گی جو رکن ملکوں کے سربراہوں کے درمیان غیر رسمی دو طرفہ ملاقاتوں کے دوران زیر غور آئیں گے۔
ایک بڑی دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تنظیم میں شامل تمام ممالک ثقافتی، مذہبی، تاریخی اور اقتصادی اعتبار سے ایک دوسرے سے جتنے قریب رہے ہیں یا ہیں اتنی قربت کسی بھی اس نوعیت کی علاقائی تنظیم کے رکن ملکوں میں نہیں پائی جاتی لیکن اس کے باوجود سارک کو وجود میں آئے اب بیس سال سے زیادہ ہوگئے لیکن یہ تنظیم عملی اعتبار سے وہیں ہے جہاں اپنے قیام کے وقت تھی۔ یعنی آپ غور کریں کہ یورپی یونین کے رکن ملکوں میں ثقافتی، لسانی اور تاریخی اعتبار سے کتا فرق ہے، اگر آپ فرانس میں جاکر انگریزی بولیں تو آپ کو اپنی بات سمجھانے میں اچھی خاصی دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہی حال جرمنی اور اسپین اور اٹلی کا ہے۔ اس کے برعکس اگر آپ لاہور سے امرتسر یا دِلی چلے جائیں تو آپ کو اپنے لب و لہجے میں اردو اور پنجابی بولنے والے مل جائیں گے جو آپ ہی جیسے لباس میں ملبوس ہونگے اور آپ ہی جیسے کھانے کھارہے ہوں گے اور اگر آپ جنوبی ہندوستان چلے جائیں تو زیادہ سے زیادہ پنجابی یا شمالی ہندوستان کی کسی ریاست کا باشندہ سمجھا جائےگا جب تک آپ خود نہ بتائیں کسی کو آپ کے پاکستانی ہونے کا شک نہیں ہوگا۔
سری لنکا اور ہندوستان کی جنوبی ریاست ٹامل ناڈ میں بھی یہی کیفیت ہے، نیپال اور ہندوستان کے سرحدی علاقے میں بھی ایسی ہی مماثلت پائی جاتی ہے۔ معیشت بھی ان ملکوں کی ایک ہی رہی ہے۔ بہت ساری ملٹی نیشنل کمپنیوں کی مصنوعات کے نام بھی ایک زمانے تک دونوں ملکوں میں ایک ہی رہے ہیں۔ مثلاً لپٹن اور بروک بونڈ چائے اور لیور برادرز کے صابن، باٹا کے جوتے اور ڈبلیو ڈی ایچ او ولز کے سیگریٹ دونوں ملکوں میں ایک ہی نام سے بکتے رہے ہیں اور شاید اب بھی بِک رہے ہوں۔ ایسی صورت میں رکن ملکوں کے درمیان از سرِ نو رشتے قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ پرانے رشتوں کو صرف بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ اب اتنا آسان کام کیوں نہیں ہو پاتا اس کی ایک وجہ میری نظر میں سیدھی سادھی تو یہ ہے کہ بدقسمتی سے سارے رکن ملکوں میں ایسے گروپ ہیں جن کا وجود ہی اس بنیاد پر قائم ہے کہ سارک ممالک ایک دوسرے کے قریب نہ آئیں۔ چنانچہ وہ بہت ہی غیر اہم اور فروعی باتوں کو ہوا دیتے رہتے ہیں تاکہ ایک دوسرے سے نفرت کو قائم رکھا جاسکے ، اس میں خود ان ملکوں کے حکمران اور فوجی اور سویلین نوکر شاہی کے لوگ بھی شامل ہیں جو جانتے ہیں کہ اگر یہ ممالک ایک دوسرے کے قریب آگئے اور ان کے درمیان تجارتی اور ثقافتی رشتے بحال ہوگئے اور آمد جامد کا آزادانہ سلسلہ شروع ہوگیا تو ان کی اپنی اہمیت ختم ہوجائے گی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہندوستان، جو علاقے کا ہر اعتبار سے بڑا ملک ہے، اس کے سیاسی رہنما اس وسیع القلبی اوردور اندیشی کا مظاہرہ نہیں کررہے ہیں جس کی ان سے توقع کی جاتی ہے۔ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان اختلافات تو سمجھ میں آتے ہیں کہ کشمیر کا تنازعہ موجود ہے اور اسکے حل کی کوئی صورت نہیں نکل رہی ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ بنگلہ دیش سے بھی ہندوستان کو یہی شکایت ہے کہ اس کی شمال مشرقی ریاستوں کے شورش پسند بنگلہ دیش میں اپنے تربیت کیمپ بنائے بیٹھے ہیں۔ نیپال اور ہندوستان کے درمیان بھی اسی قسم کے اختلافات موجود ہیں اور ماضی میں دونوں ایک دوسرے کے شورش پسندوں کی ہمت افزائی کا ایک دوسرے پر الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ اب اگر ہندوستان کی اپنے ہمسایہ ملکوں سے ان شکایات کو صحیح مان بھی لیا جائے جب بھی یہ سوال تو پیدا ہوتا ہے کہ کہیں کوئی خرابی داخلی طور پر ہندوستان میں بھی ہے جس کا فائدہ یہ مبینہ غیرملکی شورش پسند اٹھا رہے ہیں اگر وہ انہیں دور کرنے کی کوشش نہیں کرتا یا کوشش کرنے کے باوجود ناکام رہتا ہے تو پھر میرا خیال ہے اسے اپنے ہمسایوں سے شکایت بھی نہیں کرنی چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہندوستان اور پاکستان سمیت اس تنظیم کے رکن ممالک یہ سمجھ لیں کہ وہ متحد ہوکر دنیا کا سب سے بڑا بلاک بن سکتے ہیں جولگ بھگ کوئی ڈیڑھ ارب کی آبادی پر مشتمل ہوگا جو ہر اعتبار سے خودکفیل ہوگا اور نہ صرف اپنے شورش پسندوں کا قلع قمع آسانی سے کر سکے گا بلکہ ایسی طاقتوں سے بھی اپنی بات منوا سکے گا جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر ریاستی دہشت گردی کا ارتکاب کرتی رہی ہیں یا کر رہی ہیں تو وہ یقینی اس تنظیم کو ایک فعال اور موثر تنظیم بنانے کی کوشش کریں گے۔ لیکن اگر وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر یونہی لڑتے رہے جیسے کہ ابتک لڑتے آئے ہیں تو یہ تنظیم یوں ہی چلتی رہے گی جیسے کہ ابتک چلتی آئی ہے اور انکا فی الحال جو حشر ہے اس سے خراب تو ہوسکتا ہے بہتر ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ | اسی بارے میں پاک بھارت تجارت: بڑی پیش رفت10 January, 2004 | قلم اور کالم ’راجہ کی آئے گی بارات‘13 January, 2004 | قلم اور کالم آسیان کی رکنیت کتنی اہم ہے؟03 July, 2004 | قلم اور کالم غیر ضروری تاخیر سے گریز کیجئے17 July, 2004 | قلم اور کالم رویے میں لچک کی ضرورت ہے21 December, 2004 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||