| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاک بھارت تجارت: بڑی پیش رفت
سارک کا بارہواں سربراہی اجلاس اس اعتبار سے بڑا مبارک تھا کہ اس میں شرکت کرنے والے تمام سربراہانِ حکومت اور مملکت مطمئن اور خوش خوش اپنے اپنے وطن واپس لوٹے ہیں۔ اس سے پہلے جتنے بھی اجلاس ہوئے ان میں کسی نہ کسی کو کوئی نہ کوئی شکایت رہ جاتی تھی۔ کبھی نیپال کو ہندوستان سے شکایت ہوجاتی اور کبھی سری لنکا ناراض واپس جاتا تھا۔ جہاں تک ہندوستان اور پاکستان کا تعلق ہے تو انکی ناراضی کے تو باقی اراکین بڑی حد تک عادی ہوگۓ تھے اور چونکہ سارک کی کامیابی کے لۓ سارے اراکین کا مطمئن ہونا بنیادی شرط تھی اس لۓ وہ سارک کے مستقبل سے ہی مایوس نظر آنے لگے تھے۔ یہ غالباً پہلا موقع تھا کہ ان دونوں کے تعلقات میں نہ صرف جمود ٹوٹا بلکہ کچھ جوش و خروش بھی نظر آیا یہاں تک کہ ہندوستانی وزیرِاعظم اٹل بہاری واجپئی گھٹنوں میں تکلیف ہونے کے باوجود نہ صرف مسکراتے ہوئے بلکہ پاکستانی صدر پرویز مشرف سے بغلگیر بھی ہوتے ہوئے دیکھے گۓ۔ ادھر پرویز مشرف کا یہ حال تھا کہ تابڑ توڑ دو قاتلانہ حملوں کے باوجود بشّاش نظر آرہے تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے دونوں یہ سوچ کر اجلاس سے اٹھے ہیں کہ ایک دوسرے کے قریب آنے کے لۓ اب کچہ ٹھوس اقدامات کرنے ہی پڑیں گے ۔ اس کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ دونوں نے اجلاس کے دوران ہی آپس میں بات چیت دوبارہ کرنے کا بھی فیصلہ کرلیا جو آئندہ ماہ سے شروع ہورہی ہے اور اس میں کشمیر کے قضیے سمیت تمام امور پر بات ہوگی جو دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ان میں دو طرفہ تجارت بھی شامل ہے۔ میرے نزدیک یہ ایک بڑی پیش رفت ہے۔ اس لۓ کہ کشمیر کا مسئلہ تو خاصہ پیچیدہ ہے اور گزشتہ 56 سال میں اس کی پیچیدگی میں اضافہ ہوا ہے اس لئے اس کو حل کرنا شائد اتنا آسان نہ ہو، لیکن تجارت کا جہاں تک تعلق ہے اسکے فر وغ میں کوئی قباحت ہی نہیں ہے۔ دونوں حکومتوں کو صرف اپنے تاجروں کو اجازت دینے کی دیر ہے بلکہ لوگوں کا تو کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کبھی رکی ہی نہیں۔ فرق صرف یہ ہوا ہے کہ پہلے دونوں ملکوں کی حکومتوں کی اجازت سے زیادہ ہوتی تھی اور چوری چھپے کم۔ اب چوری چھپے زیادہ ہوتی ہے اور حکومتوں کی اجازت سے بہت ہی کم ہوتی ہے ۔ پہلے اس کے نتیجے میں کچھ دونوں حکومتوں کے خزانے میں بھی آجاتا تھا اب سارے کا سارا کسٹم اور پولیس کے عملے یا سمگلر کی جیب میں چلا جاتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سرکاری تجارت کا سلسلہ یوں تو 1970 تک جاری رہا لیکن 1965 کی جنگ کے بعد اس میں وہ گرم جوشی نہیں رہی اور 1971 کی جنگ کے بعد تو سرکاری سطح پر یہ سلسلہ بالکل ہی ختم ہو گیا۔ 1975 اور 1976 میں یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہوا لیکن اس کی سطح بہت کم تھی۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے 2001 اور 2002 کے درمیانی عرصے میں ہندوستان کی مجموعی برآمدات 44 ارب ڈالر اور پاکستان کو کی جانے والی برآمدات کا تخمینہ کوئی ساڑہے چوبیس کروڑ ڈالر کے لگ بھگ بتایا جاتا ہے۔ ادھر غیر سرکاری سطح پر تجارت یا سنگاپور اور دبئی کے ذریعے جو ہندوستانی مال درآمد کیا جاتا ہے اس کا تخمینہ اس سے بہت زیادہ بتایا جاتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اگر تجارت عام کی گئی تو پاکستان کی صنعتیں ہندوستان کا مقابلہ نہیں کر سکیں گی۔ لیکن جو لوگ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے فروغ کے حق میں ہیں ان کا موقف ہے کہ تجارت تو ہورہی ہے صرف سرکاری منظوری اسے حاصل نہیں ہے اور یہ کہ دونوں حکومتیں اس ناجائز تجارت کو روک بھی نہیں سکتی ہیں یا پھر روکنا نہیں چاہتی ہیں۔ مثلاً یہ کون نہیں جانتا کہ راجستھان سے مویشیوں کے ریوڑ کے ریوڑ آتے ہیں اور اگر نہیں آتے ہیں تو کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں میں گوشت کی قلت محسوس کی جانے لگتی ہے۔ پاندان کے سارے لوازمات بھی ادھر سے ہی آتے ہیں۔ کچہ دوائیں جو ہندوستان میں سستی اور پاکستان میں مہنگی ہیں وہ بھی آتی ہیں۔ پاکستان سے خشک میوہ جات، بناسپتی گھی، بعض مخصوص قسم کے پارچہ جات ہندوستان جاتے ہیں اور اگر گندم اور دال کی فصل ادھر خراب ہو تو وہ بھی ادھر سے ہی چلی جاتی ہے۔ خیرپور کی کھجوریں اور چھوارے بھی ہندوستان میں خاصے مقبول ہیں۔ ادھر کارخانوں کے لئے پوری پوری مشینیں سنگاپور اور دبئی کے راستے آجاتی ہیں۔ ہندوستانی فلموں کی درآمد پر پابندی ہے لیکن گھر تو گھر، لمبے سفر کے دوران بسوں میں بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ تجارت طلب اور رسد کے آفاقی اصول کے تحت چلتی ہے نہ روکنے سے رکتی ہے نہ ضرورت کے بغیر چلانے سے چلتی ہے۔ چنانچہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بھی تمام پابندیوں کے باوجود تجارت ہورہی ہے لیکن اس سے کچہ مخصوص لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں دونوں طرف کے عام لوگوں کو جو فائدہ پہنچنا چاہئے وہ نہیں پہنچ رہا ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اگر دونوں ملکوں کے درمیان باقاعدہ تجارت شروع ہو جائے تو یہ مختصر عرصے میں چار ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے اور پاکستان سارک کے دوسرے ملکوں اور وسطی ایشیا کے ملکوں کے درمیان اہم ترین تجارتی راستے کی شکل اختیار کرسکتا ہے جس سے اس کی اپنی داخلی معیشت کو بڑی تقویت مل سکتی ہے۔ جس کے نتیجے میں عام لوگوں کو بھی یقینی فائدہ پہنچے گا۔اس لئے اگر وقتی طور پر ہندوستان سے تجارت میں اتنا فاعدہ نہ بھی نظر آئے جب بھی اسے فروغ دینے پر توجہ کرنی چاہئے کہ اس سے مستقبل میں بڑے پیمانے پر فائدے کے امکانات ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||