فارورڈ بلاک یا ذاتی اختلافات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حکمراں مسلم لیگ میں بلدیاتی اداروں کے گزشتہ انتخابات کے بعد جو اختلافت پیدا ہوئے تھے اس کی بنیاد جو بھی ہو لیکن اس کے نتیجے میں ایک فارورڈ بلاک بن گیا ہے جو پاکستانی سیاست میں ایک نئی بات ہے۔ اس سے پہلے پارٹی کی قیادت سے اختلاف کرنے والے یا تو پارٹی کی رکنیت سے محروم کر دیے جاتے تھے یا پھر خود ہی پارٹی کو تیاگ کر کسی دوسری پارٹی میں شامل ہوجاتے یا اگر دم خم ہوتا تو اپنی علیحدہ ایک پارٹی بنا لیتے۔ اس کا ہی نتیجہ ہے کہ آپ کو پاکستان میں جتنی سیاسی جماعتیں اور ان کے جتنے مختلف گروپ ملیں گے وہ شاید ہی کسی ملک میں ملیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی حکمراں پارٹی میں اس کی قیادت سے کھلم کھلا اختلاف کیا گیا ہو اور یہ بھی غالباً پہلا موقع ہے کہ مخالفین نے پارٹی چھوڑی ہے نہ انہیں نکالا گیا ہے بلکہ وہ پارٹی میں رہتے ہوئے بظاہر ایک گروپ تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سیاسی جماعت میں فارورڈ بلاک کا تصور کب اور کیسے پیدا ہوا یہ تو مجھے معلوم نہیں لیکن برصغیر کی سیاست میں یہ اصطلاح پہلی مرتبہ غالباً 1939 میں سننے میں آئی تھی جب اس زمانے کی آل انڈیا کانگریس پارٹی کے صدر سبھاش چندر بوس گاندھی جی کی سیاست سے اختلاف کی بنا پر پارٹی کی صدارت سے مستعفی ہوگئے تھے اور انہوں نے پارٹی کے اندر رہتے ہوئے فارورڈ بلاک کے نام سے ایک گروپ بنالیا تھا۔ سبھاش چندر بوس کا خیال تھا کہ کانگریس کی قیادت بالخصوص گاندھی جی اور ان کے ساتھیوں کا کردار رجعت پسندانہ ہے اور ان کا عدم تشدد کا فلسفہ ہندوستان کو برطانوی تسلط سے نجات دلانے کے بجائے اس کو طول دینے کا باعث ہے۔ انہوں نے جب کانگریس کی صدارت سنبھالی تھی تو انہیں امید تھی کہ پارٹی کو زیادہ انقلابی خطوط پر منظم کرنے میں ترقی پسند اور سوشلسٹ عناصر ان کا ساتھ دیں گے لیکن اس میں انہیں مایوسی ہوئی، گاندھی جی کا پارٹی میں اتنا اثرو رسوخ تھا کہ سبھاش چندر بوس سے ہمدردی رکھنے کے باوجود کسی میں گاندھی جی کی مخالفت کی ہمت نہیں ہوئی، دوسرے یہ کہ بیشتر رہنما یہ بھی سمجھتے تھے کہ سبھاش چندر بوس پارٹی کو جن خطوط پر چلانا چاہتے ہیں اس کے لیے وقت مناسب نہیں ہے۔ بہر حال سبھاش چندر بوس نے پارٹی کی صدارت سے مستعفی ہوکر فارورڈ بلاک قائم کیا جس میں اگرچہ اس زمانے کا کوئی بڑا سیاستداں تو شامل نہیں ہوا لیکن بنگال اور بہار سے تعلق رکھنے والے ایسے بہت سے سیاسی کارکن بالخصوص نوجوان شامل ہوگئے جو برطانوی تسلط اور کانگریس پارٹی کی عدم تشدد کی پالیسی سے تنگ آچکے تھے۔ یہ بلاک 1941میں سبھاش بوس کے ملک سے فرار ہونے کے بعد عملی طور پر ختم ہوگیا، اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ 1942 میں کانگریس نے تقریباً انہی خطوط پر’ ہندوستان چھوڑ دو‘ تحریک شروع کی جن خطوط پر سبھاش چندر بوس چاہتے تھے چناینچہ فارورڈ بلاک کے بیشتر کارکن اس تحریک میں شامل ہوگئے۔ سبھاش چندر بوس صحیح تھے یا غلط یہ بحث تو بہت طویل ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ پارٹی کی قیادت سے ان کے اختلافات سو فیصد حب الوطنی کا نتیجہ تھے۔ ذاتی مفاد سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی انہیں ہندوستان میں پیار سے نیتا جی بوس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور ان کا نام بھی جدوجہد آزادی کے صف اول کے رہنماؤں کے سا تھ میں لیا جاتا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ پاکستان کی حکمراں مسلیم لیگ میں جو فارورڈ بلاک بنا ہے اس کے پارٹی کی قیادت سے اختلافات کی نوعیت کیا ہے۔کیا وہ بھی پارٹی کی موجودہ سیاسی حکمت عملی سے غیر مطمئن ہے، کیا وہ پارٹی کو زیادہ انقلابی خطوط پر منظم کرنا چاہتا ہے۔کیا وہ سمجھتا ہے کہ پارٹی کے اندر ایسے ترقی پسند اور انقلابی عناصر ہیں جنہیں منظم کرنے سے پارٹی کو زیادہ فعال اور عوام سے قریب کیا جاسکتا ہے۔ اس گروپ میں جو لوگ پیش پیش ہیں ان کا ابتک جو مطالبہ سامنے آیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پارٹی کے صدر چودھری شجاعت سے تو ناراض ہیں لیکن پارٹی کے پروگرام سے انہیں کوئی اختلاف نہیں۔پھر ان کے بیانات اور اخباری کانفرنسوں سے بھی یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ پارٹی کے کارکنوں یا پارٹی کی جنرل کونسل کے اراکین کی حمایت سے چودھری شجاعت اور ان کے ساتھیوں کا اثر رسوخ ختم نہیں کرنا چاہتے بلکہ اس کام کے لیے صدر جنرل مشرف کی سرپرستی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کبھی کبھی تو ان کے بیانات سے یہ تاثر بھی پیدا ہوتا ہے کہ انہیں یہ سرپرستی حاصل ہے اور اسی برتے پر وہ چیلنج پر چیلنج دیے جارہے ہیں۔ میرا خیال ہے اس فارورڈ بلاک کے قائدین کو چاہیے کہ وہ اس تاثر کو دور کریں اور پارٹی کی قیادت سے اپنے اختلافات اور مقاصد کی دو ٹوک وضاحت کریں تاکہ ان کے بارے میں جو ابہام پایا جاتا وہ دور ہو۔ اگر وہ وہی کچھ چاہتے ہیں جس کی بنیاد پر نیتا جی بوس نے گاندھی جی سے اختلاف کیا تھا تو وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوں یا نہ ہوں لیکن سیاسی حلقوں میں ان کا وقار بلند ہوگا اور اگر وہ یہ سب کچھ ذاتی اختلافات کی بناء پر کر رہے ہیں تو بہتر ہے وہ اپنے آپ کو فارورڈ بلاک کا نام دینے کے بجائے کوئی مسلم لیگ (پ)، (ف)یا (ر) کا نام دیدیں۔ یہ ملک کی سیاسی روایت کے مطابق بھی ہوگا اور اس سے لوگوں کی ان کے بارے میں وہ خوش فہمی بھی دور ہوجائے گی جو ان کے فارورڈ بلاک کہلانے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ |
اسی بارے میں ’فالٹ‘ صرف فالٹ لائنز میں نہیں ہے14 November, 2005 | قلم اور کالم دھرتی ماں کو بھوک لگی تھی12 November, 2005 | قلم اور کالم اگر لوگ ہی نہ رہے تو تعمیرِنو کس کی30 October, 2005 | قلم اور کالم ایک ذرا دیانتداری چاہیے29 October, 2005 | قلم اور کالم زلزلہ سیاست میں کیا گل کھلائے گا28 October, 2005 | قلم اور کالم ’کچھ اور اسلام آباد بسائے جائیں‘27 October, 2005 | قلم اور کالم اللہ، آرمی اور کشمیر23 October, 2005 | قلم اور کالم اگر اب بھی !23 October, 2005 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||