پھر کوئی کھچڑی پک رہی ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر پرویز مشرف صاحب کا آج کل تقریباً روز ہی ایک بیان یا انٹرویوآ جاتا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملکی معاملات میں ان کی دلچسپی کچھ زیادہ بڑھ گئی ہے یا پھرجو کچھ ملک میں ہورہا ہے اس سے وہ بہت زیادہ مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں فرمایا ہے کہ انہوں نے جن لوگوں کو منتخب کیا تھا انہوں نے 1999 سے 2002 تک بہترین کارکردگی دکھائی اس کے بعد جو لوگ آئے وہ عوام کے منتخب کردہ ہیں اور ان کی کارکردگی کے ذمہ دار بھی عوام ہی ہیں۔ جناب صدر نے ایک حالیہ انٹرویو میں یہ بھی کہا ہے کہ ملک میں نظام صدارتی ہو یا پارلیمانی اگر’چیک اور بیلنس‘ نہیں ہے تو ناکام ہوجائے گا۔ان کی اس بات سے اختلاف کی گنجائش نہیں ہے بلکہ میں تو یہ تک کہنے کے لئے تیار ہوں کہ اگر کسی نظام میں چیک اور بیلنس نہیں ہے تو وہ سرے سے نظام ہی کہلانے کا مستحق نہیں ہے۔ لیکن میرا اپنا خیال ہے کہ پاکستان میں اتنے سارے آئین اور لیگل فریم ورک آرڈرز جو ناکام ہوئے ہیں اس کی وجہ چیک اینڈ بیلنس کی کمی نہیں بلکہ عوام اور حکومت کے مابین اعتماد کافقدان ہے۔ جناب پرویز مشرف صاحب اقتدار میں آئے تھے تو سیاسی مبصرین کے مطابق محترم میاں نواز شریف کی حکومت عوام میں اپنی مقبولیت بڑی حد تک کھو چکی تھی، نہ صرف عوام، بلکہ خود ان کی پارٹی میں لوگ ان کے ارادوں سے کچھ خوفزدہ نظر آنے لگے تھے۔ ایسی صورت میں جب جنرل پرویز مشرف صاحب اقتدار میں آئے تو لوگوں نے بڑی امیدیں باندھ لیں کہ اب ملک میں ایک صاف ستھرا نظام آجائے گا اور ان کے تمام دلدر دور ہوجائیں گے۔ جنرل صاحب کے ابتدائی بیانات سے بھی عوام کی ان امیدوں کو خاصی تقویت ملی۔ مثلاً یہ کہ وہ سیاست کو بدعنوان لوگوں سے پاک کریں گے اور انتخابات کرائیں گے اور بلدیاتی انتخابات کے ذریعے اقتدار عوام کے حوالے کردیں گے اورضرورت سے زیادہ ایک دن بھی نہیں رہیں گے وغیرہ وغیرہ لیکن پھر ہمیشہ کی طرح’ضرورت‘ طول کھینچنے لگی اور کھینچتی جارہی ہے اور عین ممکن کہ جناب صدر2007 کے بعد بھی اپنی وردی اور کرسی برقرار رکھنے کا فیصلہ کریں اور اس کے لئے آئین میں مزید کچھ ’چیک اینڈ بیلنں‘ بڑھانے کے بارے میں سوچ رہے ہوں۔ یہ جو اڑتی پڑتی خبریں آرہی کہ حکومت میں بعض لوگ چاہتے ہیں کہ آئندہ صدارتی انتخابات بلدیاتی اراکین کے ذریعے کرائے جائیں وہ خالی از علت نہیں ہوسکتیں۔ یوں لگتا ہے کہ کہیں کوئی کچھڑی پکنی شروع ہوگئی ہے۔ اب اگر پاکستان کا ان جمہوری ملکوں سے موازنہ کیا جائے جہاں جمہوریت کے ساتھ ساتھ سیاسی استحکام بھی ہے تو صرف ایک فرق نظر آئے گا اور وہ یہ کہ ان ملکوں میں آئین میں ضرورت کے مطابق ترمیمات ہوتی رہیں ہیں لیکن چیک اور بیلنس پیدا کرنے کی خاطر آئین توڑ نے کی ضرورت کبھی محسوس نہیں کی گئی ۔ نہ کبھی کسی اخبار کو بند کیا گیا اور نہ کبھی حکومت اور پارلیمان کو برطرف کیا گیا۔ اگر کسی حکومت کو یہ احساس ہوا کہ وہ عوام کا اعتماد کھوچکی ہے یا کسی مسئلے پر اسےعوام کا مینڈیٹ حاصل کرنا چاہئے تو وہ خود مستعفی ہوکر قبل از وقت انتخابات کرادیتی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال جاپان اور جرمنی ہے۔ ایک مثال برطانوی پولیس کی بھی ہے کہ اس کےمسلح دستے کے ایک سپاہی نے ایک برازیلین شہری کو دہشت گرد ہونے کے شبہے میں ہلاک کردیا ۔ فوراً انڈیپنڈنٹ پولیس کمپلینٹس کمیشن بیٹھ گیا اور اس نے جو رپوٹ دی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پولیس نے اس سلسلے میں اب تک جتنے بیانات دیے ہیں وہ سب غلط تھے ۔ اوراب اس رپورٹ کی روشنی میں پولیس کی کارکردگی اور حکمت عملی کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ پاکستان میں اب تک پولیس تحویل یا پولیس سےمقابلے میں کتنی ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات کرائی گئی ہے اور اگر کرائی گئی ہے تو ان میں سے کتنی شائع کی گئ ہیں جبکہ پولیس کی تحویل میں حسن ناصر اور نذیرعباسی جیسے لوگ بھی مارے گئے ہیں۔ امریکہ کےصدر نکسن اور کلنٹن کا اقتدار میں ہوتے ہوئے جو حشر ہوا اس کے بارے میں صدر مشرف یقینی جانتے ہوں گے۔ چیک اینڈ بیلنس یہ ہوتا ہے۔ چیک اور بیلنس کے لئے ضروری نہیں کہ صدر کے اختیارا میں اضافہ کردیا جائے یا ایک قومی سلامتی کونسل بنادی جائے یا فوج کے سربراہ کو ملک کا صدر بنادیا جائے، ضرورت اس بات کی ہے کہ آئین کا احترا م کیا جائے۔ ، مقننہ کا احترام کیا جائے ، عدلیہ کا احترام کیا جائے اور ابلاغ کے ذریعوں کی آزادی کا احترام کیا جائے۔ تو چیک اور بیلنس خود پیدا ہوجائے گا۔ صدر پرویز مشرف نے چیک اور بیلنس کے لئے بہت سارے اختیارات حاصل کرلیے ہیں اب ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ ان اختیارات کو چیک اور بیلنس کے لیے ہی استعمال کریں اپنے اقتدار کو طول دینے کےلئے نہیں۔ اگر وہ ان اختیارات کو ملک کی بہتری اور عوام کی فلاح کے لئے استعمال کریں گے تو ممکن ہے عوام ان کے اقتدار کو خود ہی طول دیدیں اور نہیں تو جناب پاکستان میں یہ روایت رہی ہے کہ جو نظریۃ ضرورت کے تحت اقتدار میں آتا ہے وہ نظریہ ضرورت کے تحت ہی اقتدار سے ہٹا بھی دیا جاتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||