ہوئے تم دوست جس کے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراعظم جناب شوکت عزیز آج کل امریکہ کے دورے پر ہیں اور خیال ہے کہ 24 جنوری کو وہ امریکی صدر جارج بش سے ملاقات کریں گے۔ یہ دورہ حکومت پاکستان کی خواہش پر ہورہا ہے یا صدر بش کی طلبی پر یہ واضح نہیں ہوسکا اور نہ یہ کہ اس دورے کی غرض و غایت کیا ہے۔ تاہم تازہ ترین اطلاع کے مطابق وزیراعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ جب تک ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں اقوام متحدہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتی پاک۔ایران گیس پائپ لائن پر پیش رفت معطل رہے گی۔ جناب شوکت عزیز کے اس بیان سے امریکی حکومت کو اس منصوبے سے متعلق جو پریشانی لاحق ہے وہ دور ہوگی یا نہیں یہ تو بتانا مشکل ہے لیکن جو بات بڑی حدتک وثوق سے کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کے اس بیان سے پاکستانی عوام میں مایوسی پھیلے گی اور ان کا یہ احساس اور شدت اختیار کر جائے گا کہ امریکی اب دو طرفہ تعلقات تک ہی محدود نہیں بلکہ ملک کی خارجہ پالیسی اور داخلی معاملات پر بھی اثر انداز ہونے لگے ہیں۔ اس سے پہلے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے قوم سے اپنے حالیہ خطاب میں جہاں آبی ذخائر کے بارے میں اپنی پالیسی اور حکمت عملی کی تفصیل بتائی وہاں باجوڑ ایجنسی پر امریکہ کے حالیہ میزائیل حملے کے بارے میں ایک لفظ نہیں کہا۔ پاکستانی امور کے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس انتہائی سنگین مسئلے کے بارے میں صدر مشرف کی خاموشی ایسے لوگوں کے لیے یقینی مایوسی کا باعث ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ صدر اتنے ہی طاقتور اور بااختیار نہیں ہیں جتنا کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں۔ تاہم پاکستان کے وزیراطلاعت جناب شیخ رشید نے کہا ہے کہ اس واقعے کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے، پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرے گا۔
ادھر پاکستان کے وزیراعظم جناب شوکت عزیز نے اس حملے سے متعلق اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور یہ شکایت بھی کی ہے کہ اس سلسلے میں پاکستان کی حکومت کو بالکل لاعلم رکھا گیا۔ بہر حال انہوں نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں وہ یہ یقین دہانی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے کہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں لیکن ان سے کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ اگر وہ یہ یقین دہانی حاصل کرنے میں ناکام رہے تو کیا کریں گے۔ وہ ایک لطیفہ ہے کہ ملازم نے آقا سے کہا: ’تنخواہ بڑھا دیجئے ورنہ‘۔ پتہ نہیں یہ لطیفہ دونوں ملکوں کے تعلقات پر صادق آتا ہے یا نہیں۔ یہ بات بھی حیرت انگیز ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے اس واقعے کے بارے میں امریکہ سے اب تک کوئی باقاعدہ احتجاج بھی نہیں کیا گیا۔ نہ ہی امریکہ نے کسی معذرت یا پشیمانی کا اظہار کیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ صدر بش کو یورپ میں برطانوی حکومت اور مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی حکومت کے بعد جنوبی ایشیا میں پاکستان کی حکومت کی شکل میں ایک اور ایسا اتحادی مل گیا ہے جس پر وہ ہر کام کے لیے بھر پور اعتماد کر سکتا ہے۔
مشکل صرف یہ ہے کہ امریکی حکومت اپنے دوستوں سے محمود و ایاز والا تعلق رکھنا چاہتی ہے یعنی وہ جو کہے یا کرے وہ من وعن تسلیم کرلیا جائے، صرف فرق یہ ہے کہ محمود غزنوی بقول علامہ اقبال کم از کم نماز کے وقت ایاز کو برابر میں کھڑے ہونے کی اجازت دے دیتے تھے باقی وقت میں حسب معمول سر تا پا غلامی کرنی پڑتی تھی۔ صدر بش وائٹ ہاؤس کی اخباری کانفرنسوں میں ازراہ مہمان نوازی اپنے برابر کھڑا کر لیتے ہیں۔ ویسے وہی کچھ کرنا پڑتا ہے جو ان کی مرضی اور منشا کے عین مطابق ہو۔ اب برطانوی حکومت کو ہی دیکھ لیجیے کہ وزیراعظم ٹونی بلیئر وائٹ ہاؤس میں اخباری کانفرنس سے خطاب کے دوران تو صدر بش کے برابر میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں لیکن باقی ہر معاملے میں راضی بہ رضا۔ جو صدر بش کہہ دیں اس پر آمنا و صدقنا کہنے کے بڑی حدتک عادی ہوگئے ہیں۔ اس سلسلے میں نہ وہ یہ پروا کرتے ہیں کہ برطانوی عوام کیا سوچیں گے، نہ یہ کہ اس سے ان کی سیاسی جماعت کی مقبولیت پر کیا اثر پڑے گا اور نہ یہ کہ یورپی یونین کی اس سلسلے میں کیا پالیسی ہے۔ ’بس وہی ٹھیک ہے جو صدر بش نے فرمایا ہے باقی سب مایا ہے۔‘ ان کے اس رویے سے خود برطانوی عوام میں ان کی مقبولیت اور ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ اس کا اندازہ گزشتہ عام انتخابات کے نتائج سے لگایا جاسکتا ہے۔ |
اسی بارے میں باجوڑ: ملک گیر احتجاج کی کال14 January, 2006 | پاکستان باجوڑ کے حالات کا آنکھوں دیکھا حال14 January, 2006 | پاکستان باجوڑ بمباری: ملک گیر احتجاج15 January, 2006 | پاکستان باجوڑ: ایم کیو ایم بھی ہڑتال کرے گی15 January, 2006 | پاکستان پشاور اور وانا میں احتجاج، مظاہرے20 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||