پشاور اور وانا میں احتجاج، مظاہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
باجوڑ میں امریکی بمباری سے ہلاکتوں کے واقعے کے خلاف صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں جمعہ کو متحدہ مجلس عمل کی کال پر ایک احتجاجی مظاہرے میں صدر پرویز مشرف سے آرمی چیف کے عہدے سے مستعفی ہونے اور امریکہ سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے مطالبات کیے گئے ہیں۔ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں بھی اسی قسم کا احتجاج ہوا جبکہ جے یو آئی نے باجوڑ میں اتوار کو ہڑتال اور احتجاج کی کال دی ہے۔ پشاور کے قصہ خوانی بازار میں بعد از نماز جمعہ منعقد ہونے والے اس احتجاج میں متحدہ مجلس عمل کی دو بڑی جماعتوں جماعت اسلامی اور جعمیت علمائے اسلام (فضل الرحمان گروپ) کے علاوہ پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین، عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے بھی شرکت کی۔ مظاہرین نے انگریزی اور اردو میں احتجاجی عبارتوں والے پلے کارڈز کے علاوہ جماعتی پرچم بھی اٹھا رکھے تھے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی موجودگی کو بھانپتے ہوئے نوجوان مظاہرین نے انگریزی میں بھی نعرہ بازی کی۔ اس موقع پر امریکی صدر جارج بش کے کئی پتلے بھی نذر آتش کیے گئے۔ عام طور پر یہ پتلے احتجاج کے اختتام پر نذر آتش کیے جاتے ہیں لیکن مظاہرین اتنے پرجوش اور غصے میں دکھائی دیے کے انہوں نے اس کا انتظار نہیں کیا اور وقفے وقفے سے پتلے جلاتے رہے۔ احتجاجی مظاہرے کی قیادت جماعت اسلامی اور جے یو آئی کے اراکین قومی اسمبلی نے ہی کی جبکہ دیگر جماعتوں کی نمائندگی ان کے مقامی رہنما کر رہے تھے۔
مقررین نے اس موقع پر امریکہ کے علاوہ صدر جنرل پرویز مشرف کو اپنی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔عوامی نیشنل پارٹی کے ملک مصطفیٰ نے کہا کہ صدر نے قوم سے اپنی تازہ تقریر میں باجوڑ کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام ایسی حکومت کو زیادہ برداشت نہیں کریں گے۔ جے یو آئی کے رکن قومی اسمبلی قاری فیاض الرحمان نے امریکی حملے پر قومی اسمبلی میں سرکاری جماعت کے ردعمل پر افسوس کیا اور کہا کہ اس وجہ سے ایک متفقہ مذمتی قرار داد منظور نہیں کرائی جاسکی۔ جلسے میں منظور کی گئی ایک قرار داد میں صدر جنرل پرویز مشرف سے فوری طور پر آرمی چیف کے عہدے سے مستعفی ہونے اور امریکہ سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے مطالبات کیے گئے۔ مظاہرین نے بلوچستان میں کارروائی کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا۔ احتجاج کے اختتام پر ایم ایم اے کی جانب سے ایک یاداشت بھی پشاور میں امریکی کونسل خانے کے حکام کے حوالے کی گئی۔ ادھر قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں بھی ہزاروں قبائلیوں نے باجوڑ اور شمالی وزیرستان میں امریکی کارروائیوں سے ہلاکتوں کی مذمت کے سلسلے میں احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ وانا میں ہونے والے اس احتجاج میں قبائلیوں نے اپنی تقاریر میں حکومت سے سوال کیا کہ ایٹم بم اور ایف سولہ طیارے کس مقصد کے لیے حاصل کیے گئے ہیں جب وہ اپنے شہریوں کو ہی نہ بچا سکیں۔ اس موقعہ پر عسکریت پسندوں کے رہنما مولانا عبدالعزیز نے دھمکی دی کہ فوجی کارروائی کے دوران متاثرہ افراد میں امداد جلد تقسیم نہ ہونے کی صورت میں ان کا حکومت سے امن معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ | اسی بارے میں حملے سے امریکہ مخالف جذبات بھڑکے15 January, 2006 | پاکستان باجوڑ: ’نشانہ غیر ملکی تھے‘17 January, 2006 | پاکستان باجوڑ : خالی قبروں کا معمہ19 January, 2006 | پاکستان باجوڑ میں معاوضے دینے کا فیصلہ 19 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||