باجوڑ : خالی قبروں کا معمہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں سکیورٹی ایجنسی کے ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے باجوڑ میں کیے گئے امریکی حملے میں القاعدہ کے ایک اہم رکن مدحت مرسی السید عمر ہلاک ہوگئے ہیں۔ مدحت مرسی کے بارے میں خیال ہے کہ وہ بم تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے اور امریکہ نے ان کے سر کی قیمت پانچ ملین ڈالر رکھی تھی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی کے ذرائع نے اس حملے میں ہلاک کیے گئے القاعدہ کے چار ارکان میں سے تین کی شناخت کردی ہے تاہم ان کی لاشیں ابھی برآمد نہیں کی گئی ہیں۔ مدحت مرسی کے علاوہ امریکی حملے میں القاعدہ کے جن ارکان کے نام لیے گئے ہیں ان میں سے ایک عبد الرحمٰن المصری المغربی ہیں جو القاعدہ کے نائب سربراہ ایمن الظواہری کے داماد بتائے جاتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس حملے میں ہلاک ہونے والے تیسرے رکن ابو عبیدہ المصری ہیں جو افغانستان کے کنہڑ صوبے میں چیف آف آپریشنز خیال کیے جاتے تھے۔ 52 سالہ مدحت مصری کے بارے میں امریکی ٹی وی پر جو رپورٹ نشر کی گئی ہے اس کی تصدیق امریکی حکام نے نہیں کی ہے اور انہیں شبہ ہے کہ آیا یہ شناخت درست بھی ہے یا نہیں۔ ایک امریکی سرکاری اہلکار نے اپنا نام نہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک کھلا سوال ہے کہ حملے کے مقام پر کون تھا اور کون نہیں تھا۔ امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام نے بتایا ہے کہ حملے کے مقام ڈمہ ڈولا گاؤں میں القاعدہ کے اہم ارکان کی میٹنگ ہورہی تھی۔ پاکستانی حکام کے مطابق اس حملے میں القاعدہ کے چار افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے چوتھے کی شناخت نہیں کی جاسکی ہے۔ اگرچہ امریکی فوج نے اس حملے کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا تھا تاہم کہا جا رہا ہے کہ یہ حملہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے کروایا تھا۔ دریں اثناء پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی سے گزشتہ دنوں امریکی بمباری کی تحقیقات کرنے والے اہلکاروں کو دو خالی قبریں ملی ہیں جس سے کئی شکوک وشبہات کو ہوا ملی ہے۔ حکام کو شبہ ہے کہ دو لاشیں القاعدہ کے مشتبہ حامیوں نے شاید وہاں سے شناخت سے بچنے کے لیے کہیں اور منتقل کر دی ہیں۔ تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ قبریں دو شدید زخمی عورتوں کے لیے تیار کی گئیں تھیں جن کے بچ جانے کے بعد انہیں خالی ہی بند کر دیا گیا۔ مقامی حکام کے مطابق اس حملے میں اٹھارہ بےگناہ افراد کے علاوہ چار سے پانچ غیرملکی عسکریت پسند بھی ہلاک ہوئے تھے۔ ادھر مقامی عمائدین نے علاقے میں القاعدہ کے رہنماؤں اسامہ بن لادن یا ایمن الظواہری کی موجودگی سے انکار کرتے ہوئے حکومت سے بمباری سے متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ |
اسی بارے میں باجوڑ: ’نشانہ غیر ملکی تھے‘17 January, 2006 | پاکستان باجوڑ:صحافیوں کے داخلے پر پابندی17 January, 2006 | پاکستان باجوڑ حملہ، حکمران جماعت کا احتجاج16 January, 2006 | پاکستان حملے کا سبب کھانے کی دعوت16 January, 2006 | پاکستان حملے سے امریکہ مخالف جذبات بھڑکے15 January, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||