باجوڑ میں معاوضے دینے کا فیصلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان نے گزشتہ جمعے کو قبائلی علاقے باجوڑ میں امریکی بمباری سے ہلاک ہونے والے اٹھارہ افراد کے لواحقین کو معاوضہ دینے کا فیصلہ کیا ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ کتنا معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ اس بات کا فیصلہ صوبائی دارلحکومت پشاور میں گورنر سرحد خلیل الرحمان کی صدارت میں ہونے والے اعلی سطح کے ایک اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس کے بارے میں جاری ایک سرکاری بیان میں صرف اتنا کہا گیا ہے کہ متاثرہ خاندانوں اور افراد میں یہ معاوضہ تقسیم کیا جائے گا۔ تاہم یہ کتنا ہوگا اور کب تک تقسیم ہوسکے گا اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔ افغانستان کے ساتھ سرحد پر واقع باجوڑ کے ڈمہ ڈولا گاؤں میں گزشتہ جمعہ کو امریکی بمباری سے حکام کے مطابق اٹھارہ افراد ہلاک جبکہ کئی زخمی بھی ہوئے تھے۔ متاثرین قبائلی مسلسل مطالبہ کر رہے تھے کہ حکومت ہلاک ہونے والے قبائلیوں کو رقوم ادا کرے تا کہ ان کے نقصان کی کسی حد تک تلافی ہو سکے اب یہ اعلان واقعے کے ایک ہفتہ گزرنے کے بعد کیا گیا ہے۔ ادھر باجوڑ سے اطلاعات ہیں کہ نیم فوجی ملیشیا فرنٹیر کور کے انسپکٹر جنرل میجر جنرل طارق مسعود نے جمعرات کو ڈمہ ڈولا کا دورہ کیا اور ہلاک ہونے والوں کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ ان کے ساتھ کمانڈنٹ لیویز مظہر اکبر اور اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ عبدالقیوم بھی اس موقع پر موجود تھے۔ کسی اعلی سرکاری وفد کی جانب سے یہ اس گاؤں کا پہلا دورہ ہے۔ متاثرین میں خوردنی اشیاء بھی جن میں آٹا، گھی، چینی اور چاول شامل تھے تقسیم کیے گئے۔ سرحد کے سینئر وزیر سراج الحق نے بھی آج ڈمہ ڈولا کا دورہ کیا اور مرنے والوں کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ | اسی بارے میں ’بمباری میں حکومت کاہاتھ ہے‘16 January, 2006 | پاکستان کاہان میں بمباری دوبارہ شروع14 January, 2006 | پاکستان گولہ باری، فائرنگ: کوئٹہ میں مظاہرہ 31 December, 2005 | پاکستان شہزاد تنویر کی میت کی تدفین27 October, 2005 | پاکستان عراق: بمباری سے ستّر افراد ہلاک17 October, 2005 | پاکستان مصر نے رابطہ نہیں کیا: پاکستان25 July, 2005 | پاکستان تفتیش میں تعاون کریں گے: مشرف15 July, 2005 | پاکستان ’ایک بمبار پاکستان گیا تھا‘14 July, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||