شہزاد تنویر کی میت کی تدفین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن میں سات جولائی کو ہونے والے بم دھماکوں کے ایک مبینہ ملزم شہزاد تنویر کے ورثاء نے جمعرات کو اس کی میت کی تدفین کی ہے۔ وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہزاد تنویر کے ورثا شہزاد کے اعضاء پاکستان لائے جنہیں انہوں نے ستائیس اکتوبر کو فیصل آباد کے شہر سمندری کے قریب اپنے گاؤں میں دفنایا۔ سات جولائی کو لندن کی زیرزمین ریلوے سٹیشنز اور ایک بس میں بم دھماکے کیے گئے تھے جس میں باون افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوئے تھے۔ برطانوی تفتیش کاروں کے مطابق ان حملوں میں چار بمباروں میں سے تین پاکستانی نژاد برطانوی شہری تھے جبکہ ایک کا تعلق جمائیکا سے تھا۔ شہزاد تنویر لیڈز کا رہائشی تھا اور ان کا جسدِ خاکی پاکستان لانے میں ان کے چچا طاہر پرویز نے اہم کردار ادا کیا۔ بائیس سالہ شہزاد تنویر کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ وہ لندن بم حملوں سے قبل بھی پاکستان آئے تھے اور حملوں میں ان کی ہلاکت کے بعد غائبانہ نماز جنازہ بھی پڑھی گئی تھی۔ ادھر خبر رساں ادارے رائٹر نے بتایا ہے کہ شہزاد تنویر کے چچا طاہر پرویز نے ان سے فون پر بات کرتے ہوئے اپنے بھتیجے کی میت چھوٹیاں کوٹا نامی گاؤں میں دفنانے کی تصدیق کی ہے۔ | اسی بارے میں پہلے ’بمبار‘ پر فرد جرم عائد07 August, 2005 | آس پاس لندن حملہ آور برطانیہ کے حوالے 22 September, 2005 | آس پاس 7جولائی: حملوں سے پہلے ریہرسل20 September, 2005 | آس پاس بمباروں کی سی سی ٹی وی ویڈیو20 September, 2005 | آس پاس ’لندن دھماکے القاعدہ نے کروائے‘19 September, 2005 | آس پاس بم سے ڈرانے پر ڈھائی سال قید30 August, 2005 | آس پاس لندن بمبار کی ویڈیو جاری02 September, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||