BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 October, 2005, 17:56 GMT 22:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شہزاد تنویر کی میت کی تدفین

شہزاد تنویر کے اعضاء کو فیصل آباد کے شہر سمندری کے قریب دفنایا گیا
لندن میں سات جولائی کو ہونے والے بم دھماکوں کے ایک مبینہ ملزم شہزاد تنویر کے ورثاء نے جمعرات کو اس کی میت کی تدفین کی ہے۔

وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہزاد تنویر کے ورثا شہزاد کے اعضاء پاکستان لائے جنہیں انہوں نے ستائیس اکتوبر کو فیصل آباد کے شہر سمندری کے قریب اپنے گاؤں میں دفنایا۔

سات جولائی کو لندن کی زیرزمین ریلوے سٹیشنز اور ایک بس میں بم دھماکے کیے گئے تھے جس میں باون افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوئے تھے۔

برطانوی تفتیش کاروں کے مطابق ان حملوں میں چار بمباروں میں سے تین پاکستانی نژاد برطانوی شہری تھے جبکہ ایک کا تعلق جمائیکا سے تھا۔

شہزاد تنویر لیڈز کا رہائشی تھا اور ان کا جسدِ خاکی پاکستان لانے میں ان کے چچا طاہر پرویز نے اہم کردار ادا کیا۔

بائیس سالہ شہزاد تنویر کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ وہ لندن بم حملوں سے قبل بھی پاکستان آئے تھے اور حملوں میں ان کی ہلاکت کے بعد غائبانہ نماز جنازہ بھی پڑھی گئی تھی۔

ادھر خبر رساں ادارے رائٹر نے بتایا ہے کہ شہزاد تنویر کے چچا طاہر پرویز نے ان سے فون پر بات کرتے ہوئے اپنے بھتیجے کی میت چھوٹیاں کوٹا نامی گاؤں میں دفنانے کی تصدیق کی ہے۔

اسی بارے میں
لندن بمبار کی ویڈیو جاری
02 September, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد