BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 September, 2005, 07:32 GMT 12:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لندن بمبار کی ویڈیو جاری
محمد صدیق خان
’جب تک ہم اپنے آپ کو محفوظ تصور نہیں کریں گے تم لوگ ہمارا نشانہ رہو گے‘
ایک عرب ٹی وی چینل نے لندن میں سات جولائی کو ہونے والے حملوں میں ملوث ایک خود کش بمبار کی ویڈیو جاری کی ہے۔

الجزیرہ ٹی وی پر نشر ہونے والی اس ویڈیو میں محمد صدیق خان نے اپنے اپ کو ایک ’سپاہی‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی حکومت مسلمانوں پر ہونے والے مظالم میں شریک ہے اور وہ اسامہ بن لادن سے متاثر ہیں۔

ویڈیو ٹیپ میں کہا گیا ہے کہ ’ ہمارے الفاظ اس وقت تک مردہ ہیں جب تک ہم ان میں اپنے خون سے زندگی نہ دوڑا دیں۔ میں نے اور میرے جیسے ہزاروں افراد نے اپنے تیقّن کے لیے ہر چیز تیاگ دی ہے‘۔

ٹیپ میں کہا گیا ہے کہ برطانوی عوام لندن پر آنے والی اس آفت کے ذمہ دار ہیں کیونکہ وہ ان جمہوری حکومتوں کی حمایت کرتے ہیں جو ظلم کرتی ہیں۔

صدیق خان نے ٹیپ میں کہا کہ ’جب تک ہم اپنے آپ کو محفوظ تصور نہیں کریں گے تم لوگ ہمارا نشانہ رہو گے۔ جب تک تم لوگ ہمارے لوگوں پر بم گرانا، انہیں اذیتیں دینا اور انہیں قید کرنا نہیں چھوڑو گے ہم جنگ کرنا ترک نہیں کریں گے۔ ہم حالتِ جنگ میں ہیں اور میں ایک سپاہی ہوں اور اب تم لوگوں کو حقیقت کا مزہ چکھنا پڑے گا‘۔

یہ بات سامنے نہیں آ سکی ہے کہ یہ ٹیپ کب ریکارڈ کی گئی تھی۔

جب تک ہم اپنے آپ کو محفوظ تصور نہیں کریں گے تم لوگ ہمارا نشانہ رہو گے۔ جب تک تم لوگ ہمارے لوگوں پر بم گرانا، انہیں اذیتیں دینا اور انہیں قید کرنا نہیں چھوڑو گے ہم جنگ کرنا ترک نہیں کریں گے۔ ہم حالتے جنگ میں ہیں اور میں ایک سپاہی ہوں اور اب تم لوگوں کو حقیقت کا مزہ چکھنا پڑے گا

بی بی سی کے سیاسی ایڈیٹر نک رابسن کے مطابق یہ ٹیپ لوگوں کو ہراساں کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ’اپنے جیسے ایک آدمی کو مقامی لہجے میں یہ کہتے سننا کہ وہ اسلام کا سپاہی ہے اور ان کو جنگ میں اپنا نشانہ تصور کرتا ہے، عوام میں خوف وہراس پیدا کر دے گا‘۔

برطانوی وزیرِاعظم اور دفترِ خارجہ نے اس ٹیپ پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے تاہم مسلم گروہوں اور بمباروں کے رشتہ داروں نے اس پیغام پر غصہ کا اظہار کیا ہے۔

یارک شائر کے علاقے ڈیو بری سے تعلق رکھنے والے تیس سالہ صدیق خان ایجوئیر روڈ پر ہونے والے ٹیوب بم دھماکے کا ذمہ دار تھا۔ اس دھماکے میں چھ افراد ہلاک جبکہ ایک سو بیس زخمی ہوگئے تھے۔

ایک اور ویڈیو ٹیپ میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری نے ٹیوب حملوں کو ٹونی بلیئر کے پالیسیوں کے منہ پر ’طمانچہ‘ قرار دیا ہے۔ الظواہری نے کہا کہ’ میں آج آپ سے لندن کی اس مقدس لڑائی کے بارے میں بات کروں گا جو کہ صلیبی جنگوں کا بھرم رکھنے والے برطانیہ کے منہ پر طمانچہ ہے‘۔

عربی زبان میں ریکارڈ کیے گئے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ لندن حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ القاعدہ نے اپنے دشمنوں کی سر زمین پر محاذِ جنگ کھول دیا ہے۔ ایمن الظواہری کا کہنا تھا کہ’ یہ مقدس جنگ اب نیویارک، واشنگٹن اور میڈرڈ کی طرح دشمن کی زمین پر منتقل ہو چکی ہے‘۔

سکاٹ لینڈ یارڈ نے بھی الظواہری کی اس ٹیپ سے باخبر ہونے تصدیق کی ہے۔

انسدادِ دہشت گردی کے لیے کام کرنے والے برطانوی اداروں کا کہنا ہے کہ وہ ان ویڈیو پیغامات کو لندن دھماکوں میں القاعدہ کے ملوث ہونے کا حتمی ثبوت تصور نہیں کر ہے ہیں۔ اور وہ ان حملوں کو القاعدہ کی تعلیمات سے متاثر ہو کر کیے گئے حملے مانتے ہیں۔

بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو القاعدہ کی جانب سے جاری اس پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہو سکتی ہے جس کا مقصد حملوں کی ذمہ داری مغربی ممالک کی خارجہ پالیسی پر ڈالنا اور مزید حملوں کے بارے میں خبردار کرنا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد