’لندن دھماکے القاعدہ نے کروائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
القاعدہ کے رہنما اور اسامہ بن لادن کے نائب ایمن الظواھري نے پہلی مرتبہ ایک ویڈیو ٹیپ میں تسلیم کیا ہے کہ سات جولائی کو لندن میں ہونے والے دھماکے القاعدہ نے کروائے تھے۔ ان دھماکوں میں باون افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ انہوں نے عربی ٹی وی چینل الجزیرہ پر نشر ہونے والی ایک ویڈیو ٹیپ میں کہا کہ دھماکوں کا ’سہرا‘ القاعدہ کے سر ہے۔ اس سے پہلے الظواھري نے دھماکوں کو سراہا تھا اور ان کا ذمہ دار برطانیہ کی خارجہ پالیسی کو ٹھہرایا تھا۔ اب اس نئی ٹیپ میں انہوں نے افغانستان کے پارلیمانی انتخابات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ الظواھري نے کہا لندن دھماکے سو سال سے قائم اسلامی مملکت پر ’برطانوی صلیبیوں کی ہٹ دھرمی اور امریکی صلیبیوں کی جارحیت کا نتیجہ تھے‘۔ انہوں نے ریڈیکل اسلامی مبلغ ابو قتادا اور نو دیگر غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کے برطانوی حکومت کے منصوبے پر بھی تنقید کی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||