پہلے ’بمبار‘ پر فرد جرم عائد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن حملوں کے سلسلے میں گرفتار چار میں سے ایک مبینہ بمبار یٰسین حسن عمر پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔ یٰسین حسن عمر پر اکیس جولائی کو لندن کے ٹرانسپورٹ نظام کے مسافروں کے قتل کی سازش کرنے، قتل عمد یا قتل کی کوشش کرنے اور دھماکہ خیز مواد رکھنے کے جرم میں مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔ انہیں پیر کے روز عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ یٰسین حسن عمر کو حملوں کے پانچ روز بعد برطانیہ کے دوسرے سب سے بڑے شہر برمنگھم سےگرفتار کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے سنیچر کے روز لندن کی ایک عدالت نےطویل سماعت کے بعد اکیس جولائی کےناکام خودکش بم حملوں کےسلسلے میں گرفتار تین افراد پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے انہیں گیارہ اگست تک پولیس کی حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ جن لوگوں پر فرد جرم عائد کی گئی ہے ان میں بائیس سالہ شادی سمع عبدالقادر، بیس سالہ عمرنگمیلون المقبول اور تئیس سالہ محمد کباشی شامل ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے پولیس کو لندن ٹیوب سٹیشن میں ہونے والے بم حملوں کے بارے میں اہم معلومات نہیں دی تھیں۔ ان کے علاوہ دو عورتیں اور ایک اور شخص پہلے ہی اسی کیس میں عدالت میں پیش کیے جاچکے ہیں۔ سنیچر کو انہیں بوسٹریٹ مجسٹریٹ کورٹ میں پیش کیاگیا اور ان پر المقبول اس حکم کے بعد روتے ہوئے عدالت سے باہر آئے۔ عدالت میں ان کے رشتہ دار اور دوست بھی موجودتھے۔ ان افراد کوتین دوسرے افراد کےساتھ اکتیس جولائی کو برائٹن میں ہونے والے چھاپوں کےدوران گرفتار کیاگیاتھا۔ جمعہ کوان حملوں کےایک مشتبہ بمبار عثمان حسین کی بیوی اور نسبتی بہن کواسی الزام کے تحت عدالت میں پیش کیا گیا اور اب وہ پولیس کی حراست میں ہیں۔ ان دونوں خواتین کا تعلق جنوبی لندن کے علاقے سٹاک ول سے ہے۔ اب تک ان حملوں کے سلسلے میں اہم معلومات فراہم نہ کرنے کے الزام میں چھ افراد پر فرد جرم عائد کی گئی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||