BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 December, 2005, 08:45 GMT 13:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر بش کی عجیب پالیسی

عراق میں صدر بش کے ارادوں کی تکمیل کے لئے جتنے خون کی ضرورت ہے امریکہ اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
عراق میں صدر بش کے ارادوں کی تکمیل کے لئے جتنے خون کی ضرورت ہے امریکہ اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
صدر بش نے امن پسند امریکی عوام کی ساری امیدوں پر پانی پھیرتے ہوئے صاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ عراق میں قطعی فتح سے پہلے امریکی فوجوں کی واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

انہوں نےگزشتہ دنوں میری لینڈ میں امریکی بحریہ کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ہدف اتنے عراقی فوجیوں کو تربیت دینا ہے جو اپنے ملک کا دفاع کرنے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے کافی ہوں۔

ان کا خیال ہے کہ کم از کم عراقی فوج اور پولیس کی ایک سو بیس بٹالین ہونی چاہئیں جب کہیں جا کر امریکی افواج کی واپسی کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے۔

ادھر کچھ دن پہلے یہ اطلاع آئی تھی کہ اب تک صرف عراقی فوج کی ایک بٹالین شورش پسندوں اور دہشت گردوں کے مقابلے کی صلاحیت حاصل کرسکی ہے۔

اب اگر یہ واقعی صحیح ہے تو اس کا مطلب ہے کہ کوئی دو سال میں صدر بش کی مرضی کی صرف ایک عراقی بٹالین تیار ہوئی ہے اور اس کی تربیت اور اسے مسلح کرنے پر کیا خرچ ہوا یہ تو ہمیں نہیں معلوم لیکن اب تک 21 سو سے زیادہ امریکی فوجی مارے جاچکے ہیں اور کوئی سولہ ہزار زخمی ہوئے ہیں۔

اس حساب سے 120 بٹالین عراقی فوج کی تیاری میں کتنے دن لگیں گے اور کتنے امریکی فوجی مارے جائیں گے اور کتنے زخمی ہوں گے اس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔

ممکن ہے امریکی عوام نے یہ حساب ہم سے پہلے ہی لگا لیا ہو اور رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق صدر بش کی مقبولیت میں جو کمی آئی ہے اس کی وجہ شاید یہی ہو۔

امریکی عوام میں ایسے لوگوں کی اچھی خاصی تعداد پہلے سے ہی موجود ہے جو عراق پر حملے کی کھلم کھلا مخالفت کرتے رہے ہیں لیکن موجودہ صورتحال سے ان لوگوں میں بھی اب بےچینی بڑھ رہی ہے جو ابتداء میں صدر بش کی حکمت عملی کے کسی حد تک حامی تھے۔غالباً انہیں بھی احساس ہوچلا ہے کہ عراق میں صدر بش کے ارادوں کی تکمیل کے لئے جتنے خون کی ضرورت ہے امریکہ اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

اس بے چینی کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ صدر بش عراق پر حملہ کی وجوہات مختلف اوقات میں مختلف بتاتے رہے ہیں ، نہ صرف یہ بلکہ وہ اب تک یہ بھی نہیں بتا سکے کہ آخر عراق کی جنگ سے وہ حاصل کیا کرنا چاہتے تھے۔

جنگ شروع کرنے سے پہلے وہ یہ کہتے رہے کہ عراق کے پاس وسیع تباہی والے ہتھیار ہیں جنہیں تلاش کرنا امریکہ کی بقاء کے لئے ضروری ہے۔ لیکن ان کا یہ دعوٰی نہ صرف بری طرح پٹ گیا بلکہ خود ان کے ملک کے لوگوں نے خاکم بدہن ان پر دروغ گوئی کا الزام عائد کرنا شروع کردیا جس کی کم از کم ہم جیسے نمک خواروں میں ہمت بھی نہیں ہوسکتی تھی۔

پھر انہوں نے یہ کہا کہ القاعدہ اور صدام میں گٹھ جوڑ ہوگیا ہے اور یہ امریکہ کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ یہ بات بھی کچھ جمی نہیں اس لئے کہ القاعدہ والے نہ صرف صدام حسین کے مخالف ہیں بلکہ کسی بھی موجودہ عرب حکمران کو برداشت کرنے پر تیار نہیں۔یہ بات یوں تو سب کو ہی معلوم تھی لیکن اب شاید امریکیوں کو بھی اس کا علم ہوگیا ہے۔

ادھر صدر بش نے یہ وار خالی جاتے دیکھا تو پھر ایک اوردُور کی لائے کہ عراق میں جمہوریت کا قیام پوری جمہوری دنیا کے لئے ضروری ہے۔

میرا اپنا خیال ہے کہ امریکی عوام کو اس مسئلے سے بھی کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔ ابتداء میں تو وہ صدر بش کی اس بات کوسنی ان سنی کرگئے لیکن اب جو ان کو یہ احساس ہوا کہ عراق میں جمہوریت قائم کرنے کےلئے انہیں اپنے بندے بھی مروانے پڑیں گے تو وہ بالکل ہی الٹ گئے۔

ظاہر ہے کسی قوم کا خون اتنا ارزاں نہیں ہوتا کہ وہ کسی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کے لئے بہایا جائے، وہ چاہے جمہوریت کی بحالی ہی کیوں نہ ہو۔

ادھر عراق کے ’شورش پسندوں‘ کا یہ عالم ہے کہ جب صدر بش عراق میں اپنی کامیابی اور کامرانی کی بات کرتے ہیں وہ کوئی ایسی حرکت کر گزرتے ہیں جس سے ان کے دعوؤں کی کسی حد تک نفی ہوجاتی ہے۔ اب صدر بش نے بدھ کے روز تقریر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ عراق میں ان کی حکمت عملی کامیابی سے ہم کنار ہورہی ہے اور جمعرات کوشورش پسندوں نے رمادی کے شہر پر دھاوا بول دیا اور چند گھنٹے وہاں گزارنے کے بعد واپس چلے گئے۔

ابھی اس خبر پر چہ می گوئیاں ہوہی رہی تھیں کہ یہ خبر آگئی کہ جمعہ کے روز فلوجا میں سڑک پر نصب بم پھٹنے سے کئی امریکی میرین ہلاک ہوگئے۔

میں سمجھتا ہوں کہ تاریخ میں صدر بش جیسے عظیم لوگ بہت سے پیدا ہوئے ہیں لیکن ان کا ہمیشہ مسئلہ یہ رہا ہے کہ وہ ایک مرحلے پر پہنچ کر اتنے زیادہ طاقتور ہوجاتے ہیں کہ لوگ ان کے ارادوں سے خوف کھانے لگتے ہیں ، پھر ان کے دوستوں کی تعداد کم ہونے لگتی ہے اور مخالفین کی زیادہ۔

ایسا لگتا ہے کہ صدر بش بھی اس مقام پر پہنچ گئے ہیں اوربیرونی دنیا میں تو ان کے مخالفین میں جو اضافہ ہورہا ہے وہ تو ہورہا ہے، خود امریکہ میں بھی ان کی مخالفت میں شدت آتی جا رہی ہے جس پر انہیں توجہ دینی چاہئے۔ اپنے لئے نہیں تو اپنی پارٹی کی ہی خاطر۔ اس لئے کہ آئندہ انتخابات میں وہ تو امیدوار نہیں ہون گے لیکن ان کی ریپبلیکن پارٹی تو بہر حال انتخابات میں حصہ لے گی۔ اور اگر وہ اسی مستقل مزاجی سے اپنی اس حکمت عملی پر کاربند رہے تو ان کی پارٹی کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔

اسی بارے میں
صدر مشرف کو صدر بش کا فون
17 November, 2005 | پاکستان
اے خانہ بر اندازِ چمن کچھ تو . . .
19 November, 2005 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد