’بش کے بیان کی تفتیش کریں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عربی ٹیلی وژن چینل الجزیرہ کے مینیجنگ ڈائریکٹر ودہ خنفر برطانیہ پہنچ گئے ہیں تاکہ وہ حکومتِ برطانیہ سے اس مبینہ لیک شدہ یاد داشت نامے کے متعلق حقیقت معلوم کریں جس میں صدر بش سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے الجزیرہ چینل کو بم سے اڑانے کی بات کی تھی۔ لیک شدہ دستاویز کے مطابق صدر بش نے الجزیرہ ٹی وی چینل کو بم سے اڑانے کی بات کی تھی لیکن برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے ان کو سمجھا بجھا کر ایسا کرنے سے روک دیا تھا۔ یہ ابھی معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ خبر کہاں تک حقیقت پر مبنی ہے۔ خنفر نے کہا کہ ’ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ دستاویز موجود ہے یا نہیں۔ اور آیا مسٹر بش اور مسٹر بلیئر کے درمیان یہ گفتگو ہوئی ہے کہ نہیں۔ اس یاداشت نامے میں ایسی بات کہی گئی ہے جو ہمارے لیے، ہمارے ناظرین کے لیے، اور ہمارے صحافیوں کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یا تو اس دستاویز کے وجود کو مسترد کیا جائے، یا پھر اس کے وجود کی تصدیق کی جائے‘۔ خنفر نے مزید کہا کہ بعض لوگ کہہ رہے کہ اگر ایسی گفتگو ہوئی بھی تو شاید صدر بش مذاق سے کہہ رہے ہوں گے کہ الجزیرہ پر بمباری کی جائے۔ لیکن خنفر کا کہنا ہے کہ یہ مذاق کی بات نہیں ہے۔ ’ہمارے خیال میں اسے مذاق میں ٹالا نہیں جا سکتا۔ اس کی باقاعدہ طور پر تفتیش ہونی چاہیئے۔ اور اگر یہ مذاق بھی تھا تو کرۂ ارض پر سب سے بڑی طاقت کے سربراہ کے ’مذاق‘ کو تو ایسے ہی نہیں ٹالنا چاہیئے‘۔ | اسی بارے میں ’بش الجزیرہ پر حملہ چاہتے تھے‘22 November, 2005 | آس پاس الزام مضحکہ خیز ہے: وائٹ ہاؤس22 November, 2005 | آس پاس سپین: الجزیرہ کا صحافی پھر گرفتار17 September, 2005 | آس پاس الجزیرہ کا نیا امیج17 June, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||