سپین: الجزیرہ کا صحافی پھر گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپین میں حکام نے القاعدہ سے تعلق کے الزام میں عرب ٹی وی چینل الجزیرہ کے رپورٹر کو دوبارہ گرفتار کر لیا ہے۔ تيسير علوني اور دوسرے ملزم جمال حسین کو ملک سے فرار ہو جانے کے خطرے کے پیش نظر دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تيسير علوني کو خرابی صحت کی بنیاد پر ضمانت پر رہائی ملی تھی۔تیسیر علونی پر الزام ہے کہ انہوں نے افغانستان میں تعیناتی کے دوران القاعدہ کے لوگوں میں رقم تقسیم کی تھی۔ علونی اس الزام سے انکار کرتے آ رہے ہیں۔ تيسير علوني نے افغانستان میں طالبان اور امریکی اتحادیوں کے مابین جنگ میں الجزیرہ چینل کے لیے شاندار خدمات سر انجام دی تھیں۔ علونی ان چند صحافیوں میں سے ہیں جنہوں نے اسامہ بن لادن کا انٹرویو کیا تھا۔ تیسیر علونی شام اور سپین کی دوہری شہریت رکھتے ہیں اور ان پر سپین میں القاعدہ کے مبینہ رہنماء عماد یرکاس کے ساتھ گہرے مراسم بتائے جاتے ہیں۔ سپین پولیس نے اماد یرکاس کو2001 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ حکام کو شبہ تھا کہ اماد یرکاس سپین میں القاعدہ کے خفیہ سیل کے انچارج تھے اور انہوں نے گیارہ ستمبر کو امریکہ میں دہشت گردی کے لیے مالی معاونت فراہم کی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||