پاکستانی امام کی امریکہ بدری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی حکام نے کیلی فورنیا کے شہر لوڈی سےگرفتار کیے گئے ایک پاکستانی امام مسجد کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انتالیس سالہ شبیر احمد ان پانچ افراد میں شامل ہیں جنہیں جون میں لوڈی کی مسجد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پانچ افراد میں سے محمد عادل خان اور محمد حسن عادل نامی دو اشخاص کو پیر کو پاکستان واپس بھیج دیا گیا تھا جبکہ بقیہ دو افراد عمر حیات اور حامد حیات پر امریکی حکام سے جھوٹ بولنے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ایف بی آئی کا کہنا تھا کہ شبیر احمد القاعدہ سمیت کئی دہشت گرد تنظیموں کے درمیان رابطے کا کام کرتے تھے۔ پچھلے ہفتے ایک جج نے انہیں معاشرے کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئےضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اب شبیر احمد کو امریکہ سے امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کی بنیاد پر نکالا جا رہا ہے کیونکہ ان کے ویزے کی مدت ختم ہو چکی ہے۔
شبیر احمد کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور انہوں نے امیگریشن کے الزام پر اپیل نہ کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا ہے کہ اسی اپیل کے سلسلے میں ان کو کئی برس تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔ شبیر احمد کو لوڈی مسلم مسجد کے بورڈ نے جون میں اس وقت برخاست کر دیا تھا جب انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ وہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد پاکستان میں ایسی تقاریر کرتے رہے ہیں جن میں افغانستان پر امریکی حملے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||