BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 26 June, 2005, 07:35 GMT 12:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لوڈی مسجد کے پیش امام کا اعتراف

News image
لوڈی کی مسجد کے پیش امام شبیر احمد کو امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا
کیلیفورنیا میں گرفتار پانچ پاکستانیوں میں سے ایک نے مبینہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ وہ پاکستان میں اپنی تقریروں کے ذریعےلوگوں کو امریکہ کے خلاف بھڑکاتے رہے ہیں۔

یہ پاکستانی کیلیفورنیا کےشہر لوڈی کی مسجد کے پیش امام شبیر احمد ہیں جنہیں تین ہفتے قبل دو پاکستانی باپ بیٹوں حامد حیات اور عمر حیات کی دہشتگردی سے تعلق کے شبے میں ایف بی آئی کے ہاتھوں گرفتاریوں کے فوراً بعد دو اور افراد کے ہمراہ امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی میں پکڑا گیا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ شبیر احمد نے یہ بیان ایف بی آئی کی طرف سے دہشتگردی پر ہونیوالی ایک وفاقی تفتیش میں دیا ہے۔

ریاست کیلیفورنیا کی شمال میں ہوئاکین ویلی میں شراب کی پیداوار کی وجہ سے مشہور پچاس ہزار نفوس پر مشتمل چھوٹا سا شہر لوڈی اور اس میں رہنے والی پاکستانی آبادی پانچ پاکستانیوں کی گرفتاریوں کے بعد تمام ملک کی میڈیا اور تفتیشی اداروں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

News image
عمر حیات کو ایف بی آئی نےجون کے پہلے ہفتے میں گرفتار کیا تھا
پچاس سال سے بھی زیادہ عرصے تک امریکہ کے شہرلوڈی میں رہنے والے پاکستانیوں نے مقامی پریس کو بتایا ہے کہ شہر کے مرکزی علاقے میں انکی دکانوں پر کچھ لوگوں نے انڈے پھینکے اور ان کے خلاف نفرت آمیز زبان کا استعمال کیا ہے۔

وہاں مقامی ٹیلیویژن پر مشہور لیکن متنازعہ ٹاک شو میزبان مارک ولیم نے مسلمانوں کو طنز اور تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ میئر بیکمین کے ساتھ لوڈی کی طرف دہشتگردی کے خلاف ملین مارچ کرنے کو تیار ہیں۔ مارک ولیم کے بیان پر لوڈی میں پاکستانی کمیونٹی کے رہنما تاج خان نے کہا ہے کہ ’مارک ولیم کو اسلامک فوبیا ہو گیا ہے۔ بھلا ڈیوڈ ڈیوک (ایک سفید فام نسل پرست رہنما) اور جیکی جیکسن ایک ساتھ مارچ کیسے کر سکتے ہیں۔

امریکہ میں سنہ دو ہزار کی مردم شماری میں سات سو اور اب تک کے عبوری اعداد و شمار کے مطابق لوڈی اور اسکے قرب و جوار میں پاکستانیوں کی آبادی دو سے چار ہزار تک ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان پاکستانیوں میں زیادہ تر کا تعلق صوبہ سرحد اور اس سے ملحلقہ اٹک اور پوٹھوہار کے علاقوں سے ہے۔ ان پاکستانیوں کی اکثریت کاروباری یا ھنرمند افراد پر مشتمل ہے جن میں سبزی بیچنے سے لیکر فیکٹریوں میں کام کرنے والے، چیری اور انگور چننے اور پیک کرنے والے، ڈرائیور، ڈلیوری مین اور کمپیوٹرانجینئر شامل ہیں۔

لوڈی میں رہنے والے پاکستانیوں کے اپنے پڑوسیوں اور باقی آبادی جن میں اکثریت ہسپانوی بولنے والوں یا لاطینیوں اور سفید فام امریکیوں کی ہے سے تعلقات خوشگوار بتائے جاتے ہیں۔

News image
گرفتار شدہ افراد کے علاوہ بھی پاکستانی آبادی سے تعلق رکھنے والے افراد ہر پیشی پر عدالت میں آتے ہیں
لوڈی کے میئر جان بیکمین نے مقامی ٹیلی ویژن پر کہا ہے کہ چند لوگوں کے خراب ہونے سے ساری کمیونٹی کو خراب نہیں کہا جا سکتا۔ یہ لوگ بھی ہم باقی امریکیوں کی طرح بہتر زندگی کےلیے دن رات جانفشانی سے کام کرتے ہیں۔

لوڈی کی اکیشیا اسٹریٹ پر سبزے میں لگی باسکٹ بال پول کےسادہ سے مکان کی پارکنگ میں کھڑی گاڑی کو بچے اب بھی حیرت سے دیکھتے ہیں۔ یہ گاڑی اور اس کا ڈرائیور ابھی چند ہفتے قبل تک پڑوس کے بچوں کے لیے کشش کا باعث ہوا کرتے تھے- اس آ‏ئس کریم وین کا ڈرائیور بارییش عمر حیات ہوا کرتا تھا جیسے بچے (بقول اخبار سان فرانسسکو کرانیکل کے) ’ایل باربین‘ کے نام سے یاد کیا کرتے ہیں۔ علاقے میں انگریزی سے زیادہ بولے جانیوالی ہسپانوی زبان میں ’ایل باربین‘ داڑھی کو کہتے ہیں۔ لیکن اب اس ایل باربین کو مبینہ طور ’ایل ٹیررسٹا‘ (دہشتگرد) بتایا جاتا ہے۔ عمر حیات کو رواں مہینے جون کے پہلے ہفتے میں ایف بی آئی نے اس الزام میں گرفتار کرلیا تھا کہ انہوں نے اپنے بیٹے حامد حیات کے پاکستان میں میبنہ دہشتگردی کے کیمپ میں تربیت لینے کے متعلق جھوٹ بولا تھا۔

بائیس سالہ حامد حیات کو ایف بی آئی نے اسکے دو سال پاکستان میں قیام کے بعد پاکستان سے اپنے گھر لوڈی واپسی کے چند دنوں بعد پاکستان میں مبینہ طور پر دہشتگردی کے کیمپ میں تربیت لینے کے الزام میں گرفتار کرلیا تھا۔ عمر حیات، جسکا تعلق راولپنڈی سے بتایا جاتا ہے، کے بارے میں ایف بی آئی کی طرف سے عدالت میں داخل کیے گئے حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ اس نے پاکستان میں راولپنڈی کے قریب دہشتگردی کے ایک کیمپ میں عسکری تربیت حاصل کی جس میں صدر بش جیسی امریکی شخصیات کا فرضی نشانہ بنا کر اسے (حامد حیات) امریکہ میں حملے کرنے کے مقاصد سے مسلح تربیت دی گئی۔

News image
شبیر احمد دوھزار دو کے اوائل میں مذہبی کارکن کے ویزے پر امریکہ آئے تھے۔
’اگر چہ اسامہ حیات نامی حامد حیات کے چچازاد بھائی اور اسکے خاندان والے اسکی ایسی تربیت لینے کی اور پاکستانی حکومت اب پاکستان میں دہشتگردی کے ایسے تربیتی کیمپوں کی موجودگی کی تردید کرتے ہیں لیکن امریکی وفاقی تحقیقی اداروں کے ان الزامات نے پاکستانی حکومت کے ان دعوؤں پر امریکہ میں بڑی بحث اور متعلقہ حلقوں میں پاکستان میں ایسے کیمپوں پر تشویش پیدا کردی ہے۔ ایف بی آئی کے حامد حیات کے خلاف میڈیا کو جاری کیے جانیوالے پہلے حلف نامے میں ان باپ بیٹوں کا تعلق مولانا فضل الرحمان خلیل سے بتایا گیا تھا جو حرکت المجاھدین کے بھی مرکزی رہنماء بتائے جاتے ہیں۔

امریکی اشاعتی میڈیا میں شائع ہونیوالی خبروں کے مطابق حامد حیات کا نام ان مشتبہ افراد کی ’نو فلائی‘ فہرست شامل تھا جن کو کمرشل پرواز پر سوار ہونے سے روکا گیا ہے۔ لیکن حامد حیات پاکستان سے سان فرانسسکو جانیوالی پرواز پر سوار ہوا اور ایف بی آئی کو رپورٹوں کے مطابق یہ اسوقت معلوم ہوا جب یہ پرواز جنوبی کوریا پر سے گزر رہی تھی۔ پرواز کا رخ جاپان کی طرف موڑا گیا جہاں حامد حیات کو پرواز سے اتارا گیا اور ایف بی آئی نے ان سے انٹرویو کیا۔ لیکن انہیں اپنا سفر جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی۔

کہا جاتا ہے کہ حامد حیات اور انکے والد عمر حیات نے پوچھ گچھ کے دوران ایف بی آئی کو حامد حیات کی پاکستان میں دہشتگردی کی میبنہ کیمپوں میں عسکری تربیت کی تردید کی تھی۔ امریکی میڈیا نے ایف بی آئی کے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ حامد حیات کو پولی گراف یا جھوٹ پکڑنے والی مشین کا ٹیسٹ دینے کو کہا گیا اور ٹیسٹ میں ناکامی پر انہیں اور انکے والد کو ایف بی آ‏ئی کےساتھ مبینہ دروغ گوئی پر گرفتار کرلیا گیا۔ دونوں گرفتار پاکستانی نژاد باپ بیٹے امریکی شہری ہیں۔

News image
عمر حیات گرفتاری سے قبل لوڈی میں آئس کریم وین چلایا کرتے تھے
ان دونوں باپ بیٹوں کی گرفتاری کے بعد ایف بی آئی اور دیگر تفتیشی اداروں نے لوڈی اور اسکے قرب و جوار میں بہت سے پاکستانیوں کے دروازوں پر دستک دیکر ان سے سوالات کیے۔ ان میں لوڈی کے مسجد کے ٹرسٹیز پیش امام اور اس سے ملحقہ فاروقیہ اسلامک سینٹر کے منتظم اور دیگر ارکان بھی شامل ہیں۔ ان میں سے مسجد کے پیش امام شبیر احمد انکے کراچی میں تین سال تک مدرسے جامعہ فاروقیہ میں استاد محمد عادل اور انکے انیس سالہ بیٹے محمد حسن عادل کو امیگریشن قوانین کی مبینہ خلاف ورزی کے الزامات میں گرفتار کیا گیا۔

کراچي کے جامعہ فاروقیہ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہاں سے طالبعلموں کو بھرتی کرکے ’جہاد‘ کےلیے افغانستان بھیجا جاتا رہا ہے۔

کراچی کے مدرسے جامعہ فاروقیہ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد شبیر احمد اسلام آباد کی ایک مسجد کے پیش امام بنے۔ان کے استاد محمد عادل بھی اِسی مسجد کے پیش امام رہ چکے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ شبیر احمد کو گیارہ ستمبر دوہزار ایک میں امریکہ میں دھشتگردی کے حملوں کے بعد اسلام آباد میں ہونیوالے مذھبی گروپوں کے امریکی مخالف اور طالبان کی حمایت میں مظاہروں میں پرجوش تقریریں کرتا دیکھا اور سنا گیا۔

گزشتہ جمعہ کے روز سان فرانسسکو کی وفاقی عدالت میں امیگریشن جج کے سامنے شبیر احمد نے اگرچہ پاکستان میں لوگوں کو اکسانے اور افغانستان میں اسامہ بن لادن اور طالبان کے دفاع میں امریکیوں کو قتل کرنے کی ترغیب دینے جیسے الزامات سے انکار کیا لیکن انہوں نے اس بات کا اقرار کیا کہ وہ ان مظاہروں میں امریکی مخالف تفریریں کرتے رہے ہیں۔

News image
شبیر احمد نے جامعہ فاروقیہ اور مسجد لوڈی کےلیے دو لاکھ ڈالر کا چندہ جمع کیا تھا
استغاثہ کے وکیل نے شبیر احمد پر کم از کم ایسے پانچ مظاہروں میں اسامہ بن لادن اور طالبان کی حمایت میں تقریروں کے الزامات لگائے جن کا اعتراف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب وہ اس پر پشیمان ہیں- انہوں نے عدالت سے کہا کہ امریکہ آکر ان کی سوچ میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔

’یہاں کی اقدار قابل تعریف ہیں جہاں کتوں اور بلیوں کی زندگیوں کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔ میں جیل میں ہوں مگر پھر بھی مجھ سے حسن سلوک کیا جارہا ہے۔‘

باریش شبیر احمد پیشی کے وقت نارنجی رنگ کی قیدی کی وردی اور ہاتھوں اور پیروں میں کڑیاں پھنے ھوئے تھے۔

شبیر احمد دوہزار دو کے اوائل میں مذہبی کارکن کے ویزے پر امریکہ آئے تھے۔

شبیر احمد نے جامعہ فاروقیہ اور مسجد لوڈی کےلیے دو لاکھ ڈالر کا چندہ جمع کیا تھا۔ شمالی کیلیفورنیا کے اخبارات کے مطابق ایف بی آئی دہشتگردی کی مبینہ تربیت کے الزام میں گرفتار بیٹے حامد حیات اور اسکے باپ عمر حیات سے لوڈی مسجد اور فاروقیہ مرکز کے ان تین گرفتار شدگان سے تعلق ڈھونڈنےکی تفتیش کررہی ہے۔

لوڈی میں بہت سے پاکستانی ان کے بہت سے پڑوسی ان پانچوں گرفتار پاکستانیوں پر الزامات کی صحت کے بارے میں بٹے ہوئے ہیں جبکہ اخبار ’سان فرانسسکو‘ نے مسجد لوڈی کے پیش امام، اسکے استاد اور اسکے بیٹے کی گرفتاریوں پر وہاں رہنے والے پاکستانیوں کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں اسکی مبینہ وجہ مسجد لوڈی کے ٹرسٹیوں اور فاروقیہ مرکز کے باہمی اختلافات بتایا ہے۔

وجوہات کچھ بھی ہوں لیکن امریکہ میں پانچ پاکستانیوں کی گرفتاریاں پہلا واقعہ ہے کہ جس میں پاکستانیوں کو دہشتگردی سے مبینہ براہ راست تعلق کےشبے اور الزامات میں امریکہ میں گرفتار کیا گیا ہو۔

66ڈی این اے ڈیٹابیس
دہشتگردی روکنے کے لیے ڈّی این اے ڈیٹابیس؟
66رمزفیلڈ کی مشکل
بیوی طعنے دیتی ہے کہ اسامہ کدھر ہے؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد