3 برطانوی شہریوں پر امریکی الزام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے تین برطانوی شہریوں پر مبینہ طور پر امریکہ میں تین اہم مالی مراکز پر نظر رکھنے کے لیےدہشت گردی کے الزامات لگائے ہیں۔ 32 سالہ ڈیرین بیرٹ، 25 سالہ قیصر شفیع، 26 سالہ ندیم محمد اگست 2004 سے برطانیہ میں دہشت گردی کے ہی الزامات کے تحت زیر حراست ہیں۔ ان کا تعلق شمال مغربی لندن میں ولسڈن کے علاقے سے ہے۔ امریکہ نے ان پر الزام لگایا ہے کہ تینوں افراد مبینہ طور پر نیویارک اسٹاک ایکسچینج ، نیو یارک میں ہی سٹی گروپ بلڈنگ اور واشنگٹن میں عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈز کی عمارتوں پر نظر رکھ رہے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ مسٹر بیرٹ اور مسٹر محمد کے پاس سے ان عمارتوں پر حملوں کے منصوبے برآمد ہوئے ہیں۔ مسٹر شفیع پر ایک کتاب کے حصے رکھنے کا الزام ہے جس میں کیمیکل اور دھماکہ خیز سامان بنانے کا طریقہ دیا گیا ہے۔ امریکہ نے کہا ہےکہ ان تینوں نے نیویارک اور نیو جرزی میں پراویڈینشل پلازہ پر بھی نظر رکھی ہوئی تھی۔ اس مبینہ منصوبے کا پتہ چلنے کے بعد امریکی حکام نے ان عمارتوں کے ارد گرد حفاظتی انتظامات سخت کر دیئے ہیں۔ یہ تینوں افراد برطانیہ میں پہلے ہی دہشت گردی کے الزامات کے تحت زیر حراست ہیں۔ ان کے خلاف اگلے برس مقدمات کی سماعت متوقع ہے۔ امریکہ کا الزام ہے کہ انہوں نے ان عمارتوں پر کیمیاوی اور ریڈیو ایکٹیو حملوں کا منصوبہ بنایا تھا۔الزامات ثابت ہونے پر انہیں عمر قید کی سزاہو سکتی ہے۔ امریکہ کے نائب اٹارنی جنرل جم کومے نے اشارہ دیا ہے کہ امریکہ ان تینوں کی حوالگی کی درخواست دے سکتا ہے۔ تاہم مسٹر کومے نے کہا کہ اس طرح کی درخواست ان کے خلاف برطانیہ میں قانونی کارروائی اور سزا کے ممکنہ حکم کے بعد دی جائے گی۔ ان تینوں کو برطانیہ میں دہشت گردی کے خلاف مہم میں چھاپوں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ ان تینوں کے ساتھ پانچ مزید لوگ گرفتار کیے گئے تھے جن کے خلاف امریکہ نے کوئی الزامات نہیں لگائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||