امریکی انٹیلیجنس کی تشکیل نو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے ایوانِ نمائندگان کی بڑی اکثریت نے ملک کے خفیہ اداروں کے نظام کو از سر نو تشکیل دینے کے مسودہ قانون کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ ایوان نمائندگان سے منظوری کے بعد یہ بل بدہ کو سینیٹ میں پیش کیا جائے گا جس کے بعد صدر بش اس پر دستخط کریں گے۔ اس نئے قانون کے تحت نیشنل انٹیلیجنس ڈائریکٹر کا ایک نیا عہدہ بنایا جائے گا جو بنیادی طور پر سی آئی اے اور ایف بی آئی کے درمیان رابطے کا کام سر انجام دے گا۔ اس قانون کے تحت سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ کے خفیہ اداروں کے نظام میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں عمل میں لائی جائیں گی۔ در حقیقت ایک فرد کو امریکہ کے پندرہ خفیہ اداروں کے درمیان رابطے کے علاوہ کئی ارب ڈالر کےبجٹ پر اختیار حاصل ہو جائے گا۔ اس قانون میں انسداد دہشت گردی کے قومی مرکز کے قیام کی بھی تجویز شامل ہے۔ یہ قانون ستمبر گیارہ کے حملوں کی تحقیق کرنے والے کثیر الجماعتی کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس انکوائری نے انکشاف کیا تھا کہ ملک کے خفیہ ادارے اطلاعات کے اشتراک میں ناکام رہے اور ان کے درمیان مقابلے کا رجحان پایا جاتا تھا۔ کمیش کے مطابق یہ عوامل بھی ستمبر گیارہ کے حملوں کا وقت پر سد باب کرنے میں ناکامی کا باعث رہے ۔ اس بل کی منظوری کے بعد خفیہ اداروں کے اہلکار مشتبہ لوگوں کی جدید آلات کے ذریعے نگرانی کر سکیں گے اور ملک کے تمام ہوائی اڈوں ، بندرگاہوں اور سرحدی چوکیوں پر مسافروں کے سامان کو چیک کرنے کے جدید آلات بھی نصب کئے جائیں گے۔ امریکی ویزا کے لیے درخواست دینے والے ہر شخص کا بالمشافہ انٹرویو کیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||