انٹیلیجنس نظام: اصلاحات کا وعدہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے عراق کی جنگ سے پہلے ناقص انٹیلیجنس اطلاعات پر ہونے والی تنقید کے بعد انٹیلیجنس نظام میں اصلاحات متعارف کرانے کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم انہوں نے عراق پر امریکی حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت، کانگریس اور اقوام متحدہ سب کا یہی خیال تھا کہ عراق کی صورتحال امن کے لئے بہت بڑا خطرہ تھی۔ صدر بش امریکی ریاست فلاڈلفیا میں اپنی انتخابی مہم کے دوران اس رپورٹ پر اظہار خیال کر رہے تھے جس میں امریکی سینیٹرز نے کہا تھا کہ سی آئی اے نے عراق میں خطرے کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا تھا۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا عراق پر حملہ ناقص اطلاعات کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔ صدر بش نے مجوزہ اصلاحات پر سینٹ کے ممبران کے ساتھ مل کر کر کام کرنے کا عندیہ بھی دیا۔ صدر بش نے یہ بھی کہا کہ ساری دنیا کو پتہ تھا کہ صدام ایٹمی، بائیولوجیکل اور کیمیائی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں عراق میں ھتھیاروں کے ذخیرے تو نہیں ملے لیکن ان کو یہ ضرور پتہ تھا کہ کہ صدام وہ ھتھیار بنا سکتے تھے۔ تاہم سینٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں بش انتظامیہ کو اس الزام سے بری الذمہ قرار دیا کہ اس نے سرکاری اہلکاروں پر کسی قسم کا کوئی دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ کمیٹی کے چیئرمین ریپبلیکن سینیٹر پیٹ رابرٹس کے مطابق انٹیلیجنس حلقوں نے مبہم شہادت کی بنیاد پر میں یہ غلط نتیجہ اخذ کر لیا تھا کہ عراق کے پاس مہلک ہتھیار موجود ہیں۔ لیکن پیٹ رابرٹس کی مطابق اس ناکامی کے لئے صرف امریکہ کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس ناکامی میں امریکہ کے اتحادی، اقوام متحدہ اور دوسری اقوام سب شامل تھیں اور دراصل یہ عالمی سطح پر انٹیلیجنس کی ناکامی تھی۔ اس رپورٹ میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر جارج ٹینٹ پر صدر بش کے سن دوھزار تین کے سٹیٹ آف دی یونین سے خطاب کو ذاتی طور پر چیک نہ کرنے پر تنقید بھی کی گئی ہے۔ اس خطاب میں عراق پر نائیجر سے یورنیم کی خریداری کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ یہ امریکی رپورٹ برطانوی لارڈ بٹلر کی عراق جنگ میں برطانوی انٹیلیجنس دریں اثناء بش انتظامیہ پر عراق پر حملے کے لئے وجوھات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کے الزام پر علیحدہ تحقیق ہو رہی ہے اور اس سلسلے میں رپورٹ صدارتی انتخابات کے بعد نومبر میں شائع ہونے کا امکان ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||