کبھی کوئی دباؤ نہیں تھا: ٹینٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سی آئی اے کے ڈائریکٹر جارج ٹینٹ نے عراق پر حملے سے پہلے امریکی وزارتِ خارجہ کو دی جانے والی سراغ رسانی کی معلومات کے درست ہونے کا غیر واضح دفاع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی محکمہ سراغ رسانی نے کبھی یہ نہیں کہا تھا کہ عراق کے وسیع تباہی کے ہتھیار فوری خطرہ پیدا کررہے ہیں۔ تاہم سی آئی اے کا اندازہ یہ تھا کہ صدام حسین کی حکومت وسیع تباہی کے ہتھیار بنانے کے جارحانہ عزائم رکھتی ہے۔ صدر بش نے جنوبی کیرولینا میں تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک جو کچھ معلوم ہو چکا ہے اس کے باوجود امریکہ نے عراق کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ بالکل ٹھیک کیا۔ جارج ٹینٹ کی تقریر کے جواب میں ہتھیاروں کے سابق امریکی انسپکٹر ڈیوڈ کے نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سراغ رساں ادارے کچھ کہہ رہے تھے اور وائٹ ہاؤس کچھ اور سن رہا تھا۔ جب کے جارج ٹینٹ کا کہنا ہے کہ انہیں کبھی کسی نے نہیں کہا کہ کیا کہنا ہے اور کیسے کہنا ہے۔ بقول ان کے ’ہم وہی کہتے ہیں جو دیکھتے ہیں۔‘ انہوں نے کہا ہے کہ انہوں نے خود خفیہ اطلاعات جمع کرنے کے بارے میں صدر کے کمیشن کے قیام کی حمایت کی ہے جو اس معاملے کو اب قدرے وسیع دائرۂ میں دیکھ گا تاہم بعض حلقے اس کمیشن کے قیام کے بارے میں یہ تصور رکھتے ہیں کہ وہ صدام کے ہتھیاروں کے بارے معلومات فراہم نہ کر سکنے کی تحقیقات کرے گا۔ جارج ٹینٹ کا کہنا ہے کہ سی آئی اے نے یہ اطلاع دی تھی کہ صدام حکومت کے پاس یا تو وسیع تباہی کے ہتھیار ہیں یا وہ انہیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ اطلاع اکتوبر دو ہزار دو کی تھی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ خفیہ معلومات کبھی بھی مکمل طور پر غلط یا مکمل طور پر درست نہیں ہوتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب عراق کے بارے میں تمام تر معلومات جمع ہو جائیں گی اس وقت بھی نہ تو وہ مکمل طور پر غلط ہوں گے اور نہ ہی مکمل طور پر درست۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||