عراق: برطانیہ کا بش سے رابطہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عراق کے وسیع تباہی کے ہتھیاروں کی عدم برآمدگی اور انٹیلیجنس رپورٹو سے متعلق غیرجانبدار انکوائری کے بڑھتے ہوئے مطالبہ کے بارے میں برطانوی وزیراعظم اور امریکہ کے درمیان رابطہ ہوا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس کے لئے انکوائری سے متعلق اعلان کسی تعجب کا باعث نہیں ہے اور وزیراعظم ٹونی بلیئر اس سلسلے میں صدر بش کی جانب سے اعلان کے بعد اپنا موقف واضح کریں گے۔ غیرجانبدار انکوائری سے متعلق صدر بش کا اعلان اسی ہفتہ متوقع ہے۔ اب تک حکومت عراق کے وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے نہ ملنے کی بنا پر بلیئر حکومت پر تنقید کرنے والوں کو یہ کہہ کر خاموش کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ کہ انہیں عراق سروے گروپ کی حتمی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہئیے۔ یہ گروپ امریکہ نے تشکیل دیا ہے جو عراق میں ان ہتھیاروں کی تلاش میں مصروف ہے۔ تاہم گزشتہ دنوں سروے گروپ کے سربراہ ڈیوڈ کے نے اپنے عہدے سے یہ کہہ کر استعفی دیدیا تھا کہ ان کے خیال میں عراق کے پاس ممنوعہ ہتھیار تھے ہی نہیں۔ ان کے استعفی کے بعد غیرجانبدار انکوائری کے لئے بش انتظامیہ پر دباؤ میں ڈرامائی اضافہ ہوگیا ہے۔ بش انتظامیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ غیرجانبدار کمیشن سے کہا جائے گا کہ وہ اپنی رپورٹ آئندہ برس پیش کریں۔ اس سال نومبر میں امریکہ میں صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||