’امریکی حفاظت‘ کا قانون بن گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے ملک کی انٹیلیجینس ایجنسیوں کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں لانے کے بل پر دستخط کرکے اسے قانون کا درجہ دے دیا ہے۔ امریکہ میں گزشتہ ساٹھ سال کے دوران اس نوعیت کی تبدیلیاں نہیں کی گئی تھیں اور ان کا مقصد گیارہ ستمبر جیسے واقعات سے ملک کو بچانا ہے۔ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں ملک میں نیشنل انٹیلیجینس ڈائریکٹر کا ایک نیا عہدہ قائم کیا جائے گا اور اس عہدے پر فائز شخص امریکہ کے پندرہ سکیورٹی اداروں کے کام کی نگرانی کرے گا جن میں سی آئی اے اور ایف بی آئی بھی شامل ہیں۔ خفیہ اداروں کے اہکاروں کو نگرانی کے نئے اور زیادہ اختیار بھی دیئے جائیں گے۔ بل پر دستخط کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر جارج بش نے کہا ’ہماری ایجنسیوں کا یہ نیٹ ورک اب متحد ہو جائے گا ان میں بہتر رابطہ رہے گا اور ان کی کارکردگی مؤثر ہو جائے گی۔‘ صدر بش کا کہنا تھا کہ نئے قانون سے ’ہم اب اپنا فرض اور بہتر انداز سے ادا کریں گے اور ہمارا فرض امریکی عوام کی حفاظت ہے۔‘ نئے قانون کے تحت اب ایک شخص نہ صرف ملک کے لیے جاسوسی کرنے والے تمام اداروں کا نگران ہوگا بلکہ وہ کھربوں روپے کے بجٹ کا بھی ذمہ دار ہوگا۔ ملک میں دہشت گردی کی روک تھام کا ایک سینٹر بھی قائم کیا جائے گا۔ مشتبہ شدت پسندوں کی باتیں ٹیپ کی جا سکیں گی اور سرحدوں اور ہوائی اڈوں پر سامان کی بہتر سکرینگ کا سامان فراہم کیا جائے گا۔ یہ نیا قانون گیارہ ستمبر کے بعد ایک اعلیٰ کمیشن کی انکوائری کی رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد پاس کیا گیا ہے۔ اس انکوائری میں کہا گیا تھا کہ امریکہ پر حملوں کی بڑی وجہ یہ تھی کہ جاسوسی کے ادارے ایک دوسرے کو اطلاعات فراہم کرنے میں ناکام رہے تھے اور دفتری نزاکتوں کا شکار ہوئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||