جنوبی ایشیاء کو بش سے امیدیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جارج ڈبلیو بش کے دوبارہ امریکی صدر بننے کو جنوبی ایشیا میں عمومی طور پر خوش آئند سمجھا جا رہا ہے تاہم علاقے کے مسلمان ان کی کامیابی پر مایوس ہیں۔ جنوبی ایشیا کے ساتھ صدر بش گزشتہ چار برس خاصے مصروف رہے، خاص طور پر گیارہ ستمبر کے بعد۔ پاکستان اور افغانستان کے رہنما بش کے دوبارہ انتخاب پرخاص طور سکون کا سانس لیں گے کیونکہ یہ دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے شانہ بشانہ رہے ہیں اور دونوں ممالک کے رہنماؤں نے اپنے ذاتی مستقبل کو داؤ پر لگا کر صدر بش کا ساتھ دیا ہے۔ صدر بش کا دوبارہ انتخاب بھارت میں بھی مثبت نظر سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ ان کی صدارت کے پہلے چار سالوں میں بھارت امریکہ تعلقات مضبوط ہوئے ہیں۔ سابق امریکی صدور کے برعکس صدر بش کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان کی انتظامیہ میں جنوبی ایشیا کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ اس گرمجوشی کا سبب کچھ تو علاقے میں لڑی جانے والی دہشت گردی خلاف جنگ ہے اور کچھ بھارت اور امریکہ کے درمیان بڑھتا ہوا اقتصادی تعاون ہے۔ بھارت کے سابق سیکریٹری خارجہ کے مطابق ’خیال کیا جاتا ہے کہ بش کی کامیابی بھارت کے لیےخوش آئند ثابت ہو گی‘۔ بھارت کے ساتھ تعلقات بڑھانے کے لیے بش انتظامیہ نے خاصا وقت لگایا ہے۔ بھارت سرد جنگ کے برسوں میں امریکہ کے مخالف کیمپ میں تھا جبکہ امریکہ اب اسے ایک ابھرتی ہوئی علاقائی اقتصادی اور جوہری طاقت سمجھتا ہے۔ رابرٹ بلیکول جو کہ صدر بش کے بہت قریبی مشیر ہیں اور بھارت میں امریکہ کے سفیر بھی رہ چکے ہیں نجی اور عوامی حلقوں میں بار ہا اس خیال کااظہار کر چکے ہیں کہ صدر بش نے اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں بھارت کو بہت بلند مقام پر رکھا ہے۔ امریکی سفارتکار اور علاقائی تجزیہ نگار بھی اس خیال کے حامی ہیں کہ امریکہ بھارت کو علاقے میں چین کا متبادل سمجھتا ہے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے امریکن سٹڈیز کے شعبہ کے پروفیسر چتامانی مہاپترا کے مطابق’ امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں بھارت کو نہایت اہم کردار ادا کرنا ہے‘۔ کئی بھارتی سفارتکاراپنی نجی محفلوں میں اس خدشے کا اظہار بھی کر چکے ہیں کہ جیتنے کی صورت میں سینیٹر کیری کی انتظامیہ بھارت پر نیوکلئیر عدم پھیلاؤ کے معائدے پر دستخط کرنے کے لیےدباؤ ڈال سکتی تھی۔ یہ ایک ایسا مطالبہ ہے جس کے لیے کوئی بھی بھارتی حکومت تیار نہیں ہو سکی۔ صدر بش کی کامیابی پر بھارت کی سوفٹ وئیر کی صنعت اور ان دیگر کمپنیوں نے بھی سُکھ کا سانس لیا ہے جو سب کنٹریکٹنگ کا کام کرتی ہیں یا امریکی کمپنیوں کے لیے کال سنٹرز چلاتی ہیں۔ اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ صدر بش کے دوبارہ منتخب ہونے کی خبر کے واضع ہوتے ہی بمبئی سٹاک ایکسچینج میں حصص کی قیمتیں گزشتہ چھ ماہ کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں۔ یاد رہے کہ سینیٹر کیری نے صدر بش پر الزام لگایا تھا کہ ان کی حکومت نے گزشتہ چار سال کے دوران امریکہ سے ہزاروں ملازمتیں دوسرے ممالک، خاص طور پر بھارت اور چین، منتقل کر دی ہیں۔ بھارت کے برعکس پاکستان میں صدر بش کے دوبارہ انتخاب پر رد عمل یقینًا ملا جلا ہے۔ اگرچہ ملک کے فوجی حکمران جنرل مشرف کے لیے بش کا انتخاب تقویت کا باعث ہے لیکن عام پاکستانی اور خاص طور پر دائیں بازو کی اسلامی طاقتیں اس خبر پر مایوس ہیں۔
جنرل مشرف صدر بش کے قریب ترین ساتھیوں میں سے ہیں اور القاعدہ اور طالبان کے خلاف جنگ لڑنے کے انعام میں امریکہ سے لاکھوں ڈالر کی امداد لےپ رہے ہیں۔ جنرل طلعت محمود، جو کہ ایک تجزیہ نگار ہیں، کا کہنا ہے کہ ’ صدر مشرف جانتے ہیں کہ صدر بش اور ان کے درمیان خاص تعلق ہے‘۔ جنوب ایشیا میں امریکہ کے دوسرے اتحادی، افغانستان کے صدر حامد کرزئی بش انتظامیہ نے افغان صدر کی بھرپور مدد کی ہے اور صدر کرزئی صدر بش کی افغان پالیسی پر اپنے منتخب کردہ امریکی سفیر زلمے خلیلزاد کی مدد سے پوری طرح عمل کر رہے ہیں۔
حکمرانوں کی سطح سے ہٹ کر دیکھا جائے تو پاکستان اور افغانستان کی گلیوں میں اور بطور مجموعی علاقے کے مسلمان صدر بش کی کامیابی پر خاصے مایوس ہیں۔ ایک بڑی اکثریت کا خیال ہے کہ بش حکومت کے آئندہ چار برسوں میں مسلمان اور غیر مسلمان دنیا کے درمیان خلیج مزید بڑھ جائےگی۔ پاکستان اور افغان عوام کی بھاری اکثریت عراق اور افغانستان میں صدر بش کی پالیسیوں کی مخالف رہی ہے اور اسے خدشہ ہے کہ اب صدر بش کی نظر ایران اور شام پر ہے۔ پاکستان میں حزبِ اختلاف کے سیاستدان بھی صدر بش کے دوبارہ انتخاب پر مایوس ہیں کیونکہ ان کے خیال میں کیری پاکستان میں جمہوریت بحال کرنے کے لیے دباؤ ڈال سکتے تھے۔ علاقے کے مسلمانوں کو یہ خدشہ بھی ہے کہ صدر بش کے انتخاب سے دائیں بازو کی قوتوں کو تقویت ملے گی اور قدامت پسندوں کے ہاتھ مضبوط ہوں گے۔ اگرچہ جنوب ایشیا میں صدر بش کی توجہ کا مرکز پاکستان، افغانستان اور بھارت رہے ہیں تاہم ان کی انتظامیہ نے علاقے کے دوسرے ممالک میں بھی معمول سے زیادہ دلچسپی کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر نیپال اور سری لنکا میں۔ ان دونوں ممالک میں ہلکے درجہ کی گڑبڑ جاری ہے اور حکمران طاقتوں کو باغیوں کا سامنا ہے۔ دونوں ممالک میں صدر بش موجودہ حکمرانوں کی حمایت کر رہے ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ علاقے کے دوسرے رہنماؤں پر ان ممالک میں موجود جھگڑوں کو حل کرنے پر زور دیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||