| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’جنگ بندی کو خطرہ نہیں‘
سری لنکا کی صدر چندریکا کمارا تنگا نے کہا ہے کہ ان کی جانب سے ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے باوجود تامل ٹائیگرز کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدے کسی خطرے میں نہیں۔ انہوں نے یہ بیان بدھ کو اس وقت کیا گیا ہے جب پارلیمان کی معطلی اور تین اہم وزراء کی برطرفی کے بعد ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ اور فوج طلب کئے جانے کے اعلان پر باغیوں کی جانب سے کئے جانے والے تشویش کا اظہار کیا گیا۔ صدر چندریکا کمارا تنگا نے حکومت پر تامل ٹائیگرز کو بہت زیادہ رعایات دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے تحفظ کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ سری لنکا کی حکومت اور تامل باغیوں کے درمیان جنگ بندی کا یہ معاہدہ فروری سن دو ہزار دو میں ناروے کے مصالحت کاروں کی مداخلت سے عمل میں آیا تھا۔ صدر کے ترجمان لکشمن کادرگامر کا کہنا ہے ’صدر نے خصوصی طور پر مجھ سے کہا ہے کہ میں بالکل واضح کردوں کے جنگ بندی کا معاہدہ ابھی باقی ہے اور یہ ویسے ہی برقرار رہے گا اس کے بارے میں تو کوئی سوال اٹھا ہی نہیں ہے۔۔۔‘ ’صدر ایک بار پھر کشیدگی پیدا کرنا چاہتی ہیں نہ ہی اس کو ہوا دینا چاہتی ہیں۔‘ صدر چندریکا کماراتنگا کی جانب سے پارلیمان کی معطلی، تین اہم وزراء یعنی اطلاعات، دفاع اور داخلہ کے وزراء کی برطرفی کے بعد ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے اعلان اور دارالحکومی کولمبو میں اہم انتصیبات پر فوج کی تعیناتی کے احکامات نے ملک کو جنجھوڑ کر رکھ دیا تھا اور ان کے سیاسی مخالفین نے ان احکامات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کی سیاسی جماعت، ’سری لنکا فریڈم پارٹی‘ جو پارلیمان میں حزب اختلاف ہے، نے ملک کے شمال مشرقی علاقے میں تامل ٹائیگرز کی جانب سے ایک خود مختار حکمرانی (سیلف گوورننگ اتھارٹی) کے قیام کی تجویز پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔ باغیوں نے علاقائی خودمختاری کے عوض آزادی کے مطالبے سے دستبرداری پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ سری لنکا کے وزیر خارجہ ٹرون فرنینڈو نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کے صدر نے صورتحال کو غلط انداز سے جانچا ہے اور جلد بازی کر دی۔ وزیر خارجہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ افسوسناک ہے کہ صدر نے اس وقت جلدبازی میں فیصلہ کیا جب امن کے عمل میں تیزی آگئ تھی۔‘ انہوں نے کہا کہ دو سال کے دوران تامل باغیوں کے ساتھ حکومت کے مذاکرات کی وجہ سے کئی ہزار جانیں بچائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر کے یہ خدشات کہ تامل باغیوں کی بات بہت زیادہ مانی جا رہی تھی بالک غلط ہیں۔ اس سے پہلے سری لنکا کے وزیر اعظم رنیل وکرماسنگھے نے کہا ہے کہ ان کے تین سرکردہ وزیروں کی صدر کی طرف سے برطرفی ملک کو افراتفری اور انارکی میں دھکیل سکتی ہے۔ وزیراعظم وکرماسنگھے نے یہ بیان امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں جاری کیا ہے جہاں وہ صدر بش کو سری لنکا میں تامل ٹائیگر باغیوں کے ساتھ جاری امن مذاکرات سے آگاہ کرنے گئے ہیں۔ خود تامل باغیوں کا کہنا ہے کہ صدر کے اقدامات سے امن کے امکانات معدوم ہو جائیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||