یہ ملک میرا بھی ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں اسلام سب سے تیزی سے پھیلنے والے مذاہب میں سے ایک ہے۔ حالانکہ ہر چار امریکی مسلمانوں میں سے ایک شک کے دائرے میں رہتا ہے۔ تو پھر ایک امریکی مسلمان ہونا کیسا ہوتا ہے؟ سلمان احمد نے نوجوان امریکی مسلمانوں تک پہنچنے کے لئے موسیقی کا استعمال کیا۔ اپنے گروپ جنون کے ساتھ امریکہ کا دورہ کرنے والے راک اسٹار سلمان احمد جو خود بھی امریکی مسلمان ہیں یہ جاننا چاہتے ہیں کہ نو ستمبر کے حملوں کے بعد اب 2005 میں امریکی مسلمانوں کی زندگی کیا شکل اختیار کر رہی ہے۔ سلمان کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے بعد مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوئیں امیگریشن کو ایک ہتھیار بنا کر ہزاروں کو گرفتار کیا گیا اور بہت سے لوگوں کو امریکہ سے نکال دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ حملوں کے ایک ماہ بعد امریکی کانگریس نے ایک نئے قانون کی مدد سے دہشت گردوں کا پتہ لگانے کا سلسلہ شروع کیا ۔ اس نئے قانون کے تحت ایف بی آئی کو امریکی شہریوں پر جاسوسی کرنے کا حق مل گیا ’جس کےذریعے وہ ہماری زندگیوں میں جھانک کر دیکھ سکتے تھے ہماری ای میل یہاں تک کے ہمارے لائبریری ریکارڈز تک دیکھ سکتے تھے‘۔ حالانکہ جن لوگوں نے گیارہ ستمبر کے حملے کئے وہ دہشت گرد تھے لیکن کچھ امریکیوں نے اس کے لئے پوری مسلم دنیا کو قصوروار ٹھہرایا۔ سلمان نے ایک امریکی وکیل شریف عقیل سے ملاقات کی جن کی زندگی گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سے اتھل پتھل ہوگئی شریف کا کہنا ہے کہ وہ ان طلباء اور ان لوگوں کا دفاع کر رہے ہیں جن کی ملازمتیں صرف اس لئے چلی گئیں یا انھیں صرف اس لیے ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے کہ ان کا نام محمد ہے یا پھر وہ مسلمان یا پھر پاکستانی ہیں۔ عقیل کہتے ہیں ’یہ میرا ملک ہے لیکن یہ ایک مشکل وقت ہے اس وقت ہم سب کے لئے یہاں مسلمان ہونا بہت مشکل ہے ‘۔ تو پھر امریکی مسلمان امریکیوں کے مشکوک ذہن کا مقابلہ کیسے کریں؟ ایک سابق وکیل اظہر عثمان کے خیال میں اس کا جواب مزاح میں موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ عام امریکی اعتدال پسند وں کو سننا چاہتے ہیں اس طرح ان کا شک کم ہوتا جائے گا۔اظہر اس وقت ایک شو کے ساتھ امریکہ کے دورے پر ہیں جس کا نام ہے ’Allah Made Me Funny‘۔ اظہر کا کہنا ہے’ ہم امریکی مسلمانوں کو متحد ہوکر فخر کے ساتھ اپنی پہچان بتانی چاہئے کہ ہاں ہم امریکی مسلمان ہیں‘ ۔
اظہر اس کے ساتھ ہی اپنی برادری پر تنقید بھی کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ’ ایک برادری کی حیثیت سے ہم بہت تنہائی پسند ہیں ہم باہر کی دنیا میں نکل کر لوگوں کے ساتھ تعلقات نہیں بناتے اور اپنے ہی لوگوں تک محدود رہتے ہیں۔ 2004 کے امریکی انتخابات نےجس طرح امریکی مسلمانوں کی توجہ حاصل کی ہے اس طرح پہلے کبھی نہیں کی تھی اور انہیں واپس سیاست میں لاکھڑا کیا۔ عراق پر امریکی حملہ، ابو غریب جیل کے واقعات اور خود امریکہ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جیسے مسائل نے امریکی مسلمانوں میں بیداری پیدا کی گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سیاست میں مقامی اور ریاستی سطح پر مسلمان ایک بار پھر سرگرم ہوگئے 2002 تک 90 فیصد مسلم سیاست دان اپنے دفاتر کا رخ ہی نہیں کرتے تھے۔ مساجد اور اسلامی تنظیموں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔ روائتی طور پر مسلمان ریپبلیکن کو ووٹ دیتے تھےلیکن 2004 میں بہت سے مسلمانوں کا جھکاؤ ڈیموکریٹس کی جانب ہوگیا انہیں امید تھی کہ وہ امریکہ اور اس کے باہر مسلمانوں کے لئےہے کم خطرہ ہونگے۔ ڈاکٹر حسن کی دوستی واشنگٹن میں بہت سے بااثر لوگوں کے ساتھ ہیں وہ اور ان کی اہلیہ سیم حسن صدر بش کے کٹر حامیوں میں سے ہیں ۔ انہیں نہ صرف صدر بش کی جانب سے اپنی سالگرہ کے موقع پر نیک تمنائیں حاصل ہوتی ہیں بلکہ وہ ٹیکساس میں ان کے گھر بھی مدعو کئے جاتے ہیں۔
بش کے تئیں ان کا عقیدہ اتنا مضبوط ہے کہ انہوں نے ایک ویب سائیٹ بھی بنائی جس میں مسلمانوں سے بش کو ووٹ دینے کی اپیل کی گئی۔ عراق پر حملے کے سلسلے میں جہاں زیادہ تر مسلمان بش کے خلاف ہیں وہیں ان لوگوں کے خیال میں بش مسلمانوں کے لئے بہتر ہیں اور وہ اس سلسلے میں بش کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ دنیا کے دوسرے خطوں کے برعکس جہاں مسلمان خود کو مظالم کا شکار تصور کرتے ہیں امریکی مسلمان اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں اور اسلام کو جدید امریکی شناحت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ’وہ یہ نہیں چاہتے کہ جس ملک میں وہ رہتے ہیں وہاں انہیں برداشت کیا جائے وہ چاہتے ہیں کہ انہیں ان کی شناخت کے ساتھ تسلیم کیا جائے جو کہ ایک امریکی مسلمان کی ہے ‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||