عرب نژاد امریکی بش سے ناراض | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں کیے جانے والے رائے شماری کے تازہ جائزوں کے مطابق عرب نژاد امریکیوں کی اکثریت پچھلے انتخابات کے برعکس اس بار ڈیموکریٹک پارٹی کے امیداوار جان کیری کو ووٹ دے گی۔ لیکن پچھلے انتخابات کے مقابلے میں اس بار موقف کی اس تبدیلی کی وجہ کیا ہے؟ صرف ایک جملے سے کہ اگر بش کے مقابلے میں شیطان بھی انتخاب لڑ رہا رہو تو مسلمان اور خصوصاً عرب اسے ہی ہی ترجیح دیں گے، آپ کو موجودہ امریکی صدر کے خلاف جذبات کی شدت کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ یہ تبصرہ کسی عام عرب نے نہیں بلکہ کلیئر لیک کی یونیو رسٹی میں پڑھانے والے پروفیسر سعید بطیب نے کیا۔ ویسے تو یہ ایک فرد کا تبصرہ ہے لیکن ٹیکساس میں مجھے مختلف ملکوں سے آکر امریکہ میں رہنے والے زیادہ تر مسلمانوں سے ملتے ہوئے ایسے ہی خیالات سننے کو ملے۔ اور صرف مسلمان ہی کیا عرب ملکوں سے تعلق رکھنے والے غیرمسلم امریکی بھی ایک مختلف نقطۂ نظر کے ساتھ صدر کے خلاف تھے۔ میری ملاقات بش سینیئر کے ایک مشیر اور سرطان کے معالج ڈاکٹر فلپ سالم سے ہوئی جو کوئی بتیس برس پہلے لبنان سے امریکہ آئے تھے۔ ڈاکٹر سالم کہتے ہیں:’میں مسلمانوں اور عربوں کو الزام نہیں دیتا کہ وہ بش کو ووٹ نہیں دے رہے کیونکہ میں اس کے پس پردہ جذبات کو سمجھتا ہوں لیکن ایسا کرکے مسلمان بہت بڑی غلطی کررہے ہیں۔اگر مشرق وسطٰی اور مسلمانوں کے حوالے سے بش اور کیری کا جائزہ لیں تو میرا خیال ہے جارج بش مسلمانوں کے لیے بہت بہتر ہوں گے۔‘ وہ مزید کہتے ہیں: ’ویسے تو دونوں ہی امیدوار اس قابل نہیں کہ امریکی صدارت کے عظیم منصب پر فائز ہوں لیکن اگر مجھے دونوں میں سے ایک کو چننا ہوں تو میں یقیناً بش کو ترجیح دوں گا۔‘ لیکن عموماً مسلمانوں، خصوصاً عربوں‘ کے خیالات ڈاکٹر سالم جیسے نہیں ہیں۔ زیادہ تر مسلمان امریکیوں سے گفتگو کرکے اندازہ یہ ہوا کہ ناراضگی کی جڑیں مشرق وسطیٰ پر امریکی خارجہ پالیسی میں پیوسط ہیں، خاص کر اسرائیل اور فلسطینیوں کے تناظر میں۔
ڈاکٹر سعید بطیب کہتے ہیں: ’یہی معاملہ مسلمانوں کی ناراضگی کی بنیاد ہے۔ کوئی بھی امریکی صدر یا انتظامیہ جو فلسطینی مملکت کے قیام اور فلسطینیوں کی جان، مال، عزت اور آبرو کے تحفظ میں مدد نہیں دیتی، عرب یا کم از کم عرب امریکی اس کی حمایت نہیں کریں گے۔ بش انتظامیہ نے اپنے نسل پرست رویے سے واضح کردیا ہے کہ ان کو فلسطینیوں کی جان کی ذرا بھی پرواہ نہیں۔‘ وہ مزید کہتے ہیں: ’بش انتظامیہ نے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی میرے خیال میں کوئی پیش رفت نہیں کی۔ اب عراق کو ہی لے لیں۔ انہوں نے تو عراق میں دہشت گردوں کے لیے مقناطیسی کشش پیدا کردی ہے۔‘ امریکی مسلمانوں کے لیےتبدیلی کا لمحہ گیارہ ستمبر سن دو ہزار ایک تھا جس کے بعد ان کی دنیا ہی بدل گئی۔ لیکن ایسے بھی لوگ ہیں جو مستقبل کے لیے پرامید ہیں اور ان کے خیال میں تین برس میں صورتحال کافی بہتر ہوئی ہے اور آئندہ مزید بہتر ہوجائے گی۔ یونیورسٹی آف ہیوسٹن کے ایک استاد ڈاکٹر حشام مبید نے اسی امید کا اظہار مجھ سے کیا۔ وہ کہتے ہیں: ’جیسے جیسے وقت گزررہا ہے گیارہ ستمبر کے اثرات کم ہورہے ہیں۔ آج تین برس پہلے کی سی صورتحال نہیں ہے اور ہو سکتا ہے کہ دس پندرہ برس میں لوگ اس واقعے کو بھول بھی جائیں۔‘ ہوسکتا ہے کہ ڈاکٹر حشام مبید کی بات درست ثابت ہو لیکن کم ازکم آج کے امریکہ میں لوگ نہ تو گیارہ ستمبر کے واقعات کو بھول سکیں ہیں نہ ہی اس کے ان اثرات کو جو امریکی انتظامیہ اور ذرائع ابلاغ نے نہ صرف ان کو باور کرائے ہیں بلکہ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ ماضی کے برعکس موجودہ امریکی انتخابات میں اہم ترین موضوع امریکی معیشت اور امریکیوں کی خوشحالی نہیں بلکہ ملک کی سلامتی اور تحفظ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||