BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 18 October, 2004, 15:31 GMT 20:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مذاق تو بالکل ہی نہیں۔۔۔

ہیوسٹن
ٹیکساس صدر بش کی آبائی ریاست ہے
ٹیکساس موجودہ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی آبائی ریاست ہے۔ لہٰذا جب امریکی انتخابات کی کوریج کے لیے جانا ٹھہرا تو سب سے پہلی منزل ٹیکساس میں ہیوسٹن ہی قرار پائی۔

لیکن ہیوسٹن کے جارج بش انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترتے ہی اندازہ ہوگیا کہ گیارہ ستمبر کے بعد کے امریکہ آچکا ہوں۔ کوئی میل بھر لمبی لائن میں ایک گھنٹہ لگے ہوئے نظر نظارہ باز کو کوئی کہاں تک روکے۔ اب جو غور سے آس پاس دیکھا تو اشتہارات ، امریکی اہلکاروں کی چوکسی اور کن انکھیوں سے نظر رکھنا سب ہی اس بات گواہی دیتے دکھائی دیے کہ مشتری ہوشیار باش! مذاق بالکل نہیں۔

ایک اشتہار پر نگاہ پڑی، مواصلاتی کمپنی اپنی دیگر خدمات کے ساتھ قومی سلامتی کے میدان میں گاڑے جھنڈوں کا فخریہ اعلان کر رہی تھی۔ برابر میں ہی امریکی ایئر فورس ریزرو کا ایک پوسٹر بظاہر تو قدرتی آفات کے مقابلے میں اپنی چوکسی اور سابقہ خدمات کا حوالہ دے رہا تھا لیکن اصل زور اس بات پر تھا کہ ’اب جب ان دنوں امریکہ کو سب سے زیادہ ہماری ضرورت ہے تو بھی ہم نہ صرف قومی سلامتی کے تحفظ کی صف اول میں ہیں بلکہ ساری دنیا میں آزادیوں کے تحفظ کی جنگ بھی لڑ رہے ہیں۔‘

اس اشتہار کے معانی ابھی عالمی سیاست کے تناظر میں سمجھ بھی نہ پایا تھا کہ ایک نادیدہ آواز نے فوری خبردار کیا کہ ’سکیورٹی اور سلامتی کے انتظامات کے بارے میں مذاق میں بھی کوئی تبصرہ نہ کریں کہ یہ آپ کی گرفتاری کا باعث بن سکتا ہے اور آپ کو اس کے بعد امریکہ بدر بھی کیا جا سکتا ہے۔‘

خیر طویل لائن کے بعد امیگریشن ہال میں آئے تو وہاں ایک نئی لائن منتظر تھی اور ظاہر ہے یہ بھی خاصی لمبی ہی تھی۔ بالآخر جب میرا نمبر آیا تو وہی ہوا جس کا ڈر تھا کہ غلط ملک میں اور غلط رنگ کی چمڑی کے ساتھ پیدا ہونے کا خمیازہ بھگتنے کو خصوصی رجسٹریشن کا سامنا کرنا پڑا جہاں اور تو کچھ نہیں ہوا لیکن چار گھنٹے کے انتظار میں دوسروں کی جو درگت بنتے دیکھی تو اپنی باری پر بقول انگریزی محاورے کے، بدترین کے لیے ذہنی طور تیار ہوچکا تھا۔

لیکن حیران کن طور پریہ پل صراط بہت سرعت سےطےہوا اور امیگریشن افسر نے معذرت بھی کی کہ آپ کو بطور صحافی اس رجسٹریشن سےگزرنا تو نہ تھا لیکن اب چونکہ یہ عمل شروع ہوگیا ہے تو آپ کو بھی رجسٹر ہونا ہی ہوگا۔

رجسٹریشن کے اس عمل کے دوران جو سوالات مجھ سے پوچھے گئے من و عن وہی سوالات بمعہ جوابات لندن کے امریکی قونصل خانے میں بھی ویزے کی درخواست کے ساتھ جمع کرا چکا تھا اور یہ ساری تفصیلات امریکیوں کے کمپیوٹر سسٹم پر محفوظ بھی تھیں۔ میں نے امیگریشن افسر سے پوچھا کہ کیا اپنا اور میرا وقت بچانے کے لیے یہ بہتر نہ ہوتا کہ انہی تفصیلات کو نکال لیا جاتا۔ جواب ملا ’سر! وہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ والے ہیں اور ہم ہوم لینڈ سکیورٹی والے ۔ وہ ہمارے خلاف اور ہم ان کے۔ لہٰذا یہ تو ممکن نہیں ہے۔‘

چار گھنٹے کی تاخیر سے جب میں باہر نکل رہا تھا تو میری نظروں کے سامنے ہوم لینڈ سکیورٹی کا وہ بورڈ گھوم گیا جس پر لکھا تھا ’ہوم لینڈ سکیورٹی امریکہ کو محفوظ بنانے اور اس کے دروازے کھلے رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔‘

کھلا سمندر، گوپی چندر، بول میری مچھلی کتنا پانی!

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد