مور کی ٹی وی فلم روک دی گئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی ایک ٹی وی کمپنی نے فلم ساز مائیکل مور کی انتخابات پر بنائی گئی ایک تین گھنٹے کی فلم کو روک دیا ہے۔ مائیکل مور کی قبل از انتخابات پیش کی جانے والی اس خاص فلم میں ان کی پہلی فلم ’فارن ہیٹ 9 / 11‘ کی نمائش بھی شامل تھی جو ’ان ڈیمانڈ نامی ٹی وی چینل پر دکھائی جانے والی تھی۔ ٹی وی کمپنی نے بتایا ہے کہ دو نومبر کے انتخابات سے ٹھیک ایک دن قبل پیش کی جانےوالی اس فلم کو قانونی اور دیگر جائز وجوہات کی بناء پر نہیں دکھایا گیا ہے۔ جب کہ مور نے کہا کہ’بظاہر تو لوگوں نے ان پر دباؤ ڈال رکھا ہے‘۔ مور نے مزید کہا کہ انہوں نے اس ٹی وی کمپنی کے ساتھ پچھلے مہینے ہی ایک معاہدہ کیا تھا اور وہ اب قانونی کاروائی کرنے کے بارے میں سونچ رہے ہیں ۔ انہون نے کہا کہ’ہم نے ان کی قانونی ذمہ داری کے بارے میں بتادیا ہے اور یہ بھی کہ ہر بڑا آفیسر بھی امریکہ کے عوام کو اس فلم دیکھنے سے محروم رکھ رہا ہے۔‘ ’اس فلم کو لے کر کچھ نہ کچھ تکالیف تو پیش آتی ہی رہیں ہیں۔ لیکن ہر بار ہم اس سے آگے نکل سکے کیونکہ آپ امریکیوں کو اس کو دیکھنے سے نہیں روک سکتے‘۔ حالانکہ ان ڈیمانڈ والوں کا کہنا ہے ’مور کا کسی بھی طرح کا قانونی قدم بے بنیاد اور بے وجہ ہوگا‘۔ ٹی وی پر اس خاص شو کو دیکھنے کے لیے 5۔50 پاؤنڈ (یا9۔95 ڈالر) کا خرچ درکار تھا۔ جس میں شہرت یافتہ لوگوں کے ذریعہ عوام کو رائے دہی پر آمادہ کیا جا نا بھی شامل تھا۔ مور رپبلک پارٹی کے صدر بش کے زبردست نقاد ہیں۔ بش اپنےحریف اور ڈیموکریٹک پارٹی کے نمائندے جان کیری سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ مور کی متنازعہ دستاویزی فلم ’فارن ہیٹ 9 / 11 ‘میں بش اور بن لادن کے مور نے صاف صاف اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بش کو خارج کردیا جانا چاہیے اور ان کی فلم کا وقت تعین کرنے کی وجہ بھی یہی تھی کہ زیادہ سے زیادہ رائے دہندوں پر فلم اثر کرسکے۔ ان ڈیمانڈ ٹی وی چینل امریکہ میں ٹی وی دیکھنے والے ہر چوتھے گھر میں دیکھی جاتی ہے اور اس طرح 28 ملین گھروں تک اس کی پہنچ ہے۔ اسی دوران اطلاعات کے مطابق مور نے ایک دوسری ٹی وی کمپنی سنکلیر بروڈکاسٹ گروپ کو اس فلم کی مفت نمائش کی پیشکش کی ہے لیکن ان کے کنزرویٹو سیاست کے رحجان رکھنے کی وجہ سے لگتا نہیں کہ وہ یہ فلم |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||