بش: انتخابی دوڑ کا آغاز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بُش پیر کے روز اپنے حمایتیوں سے اہم خطاب کر رہے ہیں جسے ان کی انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز کہا جا رہا ہے۔ دریں اثنا جارج بُش کی انتخابی ٹیم نے ٹیلی ویژن پر اشتہاری مہم کے انتظامات بھی شروع کر دیئے ہیں۔ اس مہم پر دس کروڑ ڈالر خرچ کئے جائیں گے۔ امریکی روزنامے نیو یارک ٹائمز نے صدر بُش کی انتخابی مہم کے منتظم کین میلمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ اس بات سے قطع نظر کے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار کا فیصلہ ہوتا ہے یا نہیں چار مارچ سے ٹی وی پر اشتہار بازی شروع کر دیں گے۔ اخبار نے رپبلکن پارٹی کی انتخابی ٹیم کے ایک رکن کے حوالے سے لکھا ہے کہ صدر بُش اب خود بھی انتخابی میدان میں کودنے کے لئے بے چین تھے۔ ا
ایک امریکی اخبار ڈیٹرائٹ فری پریس کے مطابق ابتدائی طور پر رپبلکن پارٹی کی انتخابی ٹیم کا خیال تھا کہ جب تک ڈیموکریٹک پارٹی اپنے امیدوار کا فیصلہ نہیں کرتی صدر بُش کو انتخابی سے دور رہنا چاہیے۔ لیکن اب ربپلکن پارٹی کو اس بات کا احساس ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی سے صدارت کی نامزدگی حاصل کرنے کے مختلف امیدواروں کی طرف سے تین عشاریہ سات کروڑ ڈاکر کے اشتہار ٹی وی پر چلائے گئے جن میں سے نصف سے زیادہ کا نشانہ صدر بُش تھے۔ امریکی اخباارات کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگری کے امیدواروں خاص طور پر جان کیری نے صدر بُش پر ویت نام جنگ میں حصہ نہ لینے کی وجہ سے بار بار تنقید کی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی ویب سائٹ پر ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ حالیہ تجزیوں کے مطاق صدر بُش کی مقبولیت میں بدستور کمی آ رہی ہے۔ اخبار کے مطابق صدر بُش پیر کو اپنی تقریر میں آزادی، سلامتی، معیشت اور حب الوطنی پر بات کریں گے۔ اخبار کے مطابق وائٹ ہاؤس میں حکام کا خیال تھا کہ صدر بچش کب جتنی دیر تک ممکن ہو انتخابی مہم سے دور رہنا چاہیے لیکن انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ زیادہ دیر ایسا کرنا نقصان دہ ہوگا۔ رپبلکن پارٹی کی انتخابی ٹیم کا کہنا ہے کہ ان پر ان کی جماعت کے حمایتیوں اور منتخب ارکان کی طرف سے ڈیٹموکریٹک پارٹی کی تنقید کا جواب دینے کے لئے دباؤ بڑھ رہا تھا لیکن ان کے جلد مہم شروع کرنے کی ایک بڑی وجہ ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار کا توقع سے پہلے سامنے آنا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||