رالف نیڈر پھر میدان میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں رالف نیڈر نے بھی بطور آزاد امیدوار شرکت کا اعلان کر دیا ہے۔ این بی سی ٹیلی وژن کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ملک میں حقیقی تبدیلی لائی جائے۔ انہوں نے ڈیموکریٹ اور ریپبلیکن دونوں سیاسی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ رالف نیڈر سن دو ہزار کے صدارتی انتخابات میں گرین پارٹی کے امیدوار تھے۔ اگرچہ انہیں تین فی صد سے بھی کم ووٹ ملے تھے تاہم ان کو ملنے والے ووٹوں نے الگور کے مقابلے میں بش کے لئے صدر بننے کی راہ ہموار کر دی تھی۔ ان انتخابات میں فلوریڈا میں بش کو الگور پر صرف پانچ سو سینتیس ووٹوں کی سبقت حاصل ہوئی تھی۔ کئی ڈیموکریٹس کہتے ہیں کہ اگر نیڈر کام نہ بگاڑتے تو آج امریکہ کے صدر الگور ہوتے۔ نیڈر کا کہنا ہے کہ ملک کو کئی مسائل کا سامنا ہے جن میں سے ایک دولت کا چند ہاتھوں میں ارتکاز بھی ہے۔ دو ہزار کے انتخابات میں نیڈر کی کارکردگی کا اثر صارفین کے ان حلقوں پر بھی پڑا تھا جو انہوں نے قائم کیے تھے اور لوگوں نے اپنے عطیات دینا بند کر دیئے تھے۔ بعض لوگ ان سے اتنے ناراض ہیں کہ انہوں نے ایک ویب سائٹ تشکیل دی ہے جس کا نام ہی ’نیڈر، انتخابات مت لڑو!‘ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||