امریکی مسلمان تعصب کی زد میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی مسلمانوں کی تنظیم کونسل آف امریکن اسلامک ریلیشنز (کائیر) نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق گزشتہ برس کے دوران امریکہ میں مسلمانوں کو سکولوں، دفتروں اور محلوں میں ہراساں کیے جانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ کائیر کا کہنا ہے کہ دو ہزار تین میں اسے ہراساں کیے جانے کے واقعات کی ایک ہزار انیس شکایات موصول ہوئیں۔ شکایتوں کی یہ تعداد سال دو ہزار دو کے مقابلے میں چھ سو دو زیادہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گیارہ ستمبر کے بعد دہشتگرد حملوں کے خطرے اور عراق کی صورتحال کی وجہ سے ان واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ کونسل نے امریکی ذرائع ابلاغ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ مسلمانوں کے بارے میں منفی سوچ ابھارنے میں آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں انسداد دہشتگردی کے قانون پیٹریاٹ ایکٹ کے بے جا اطلاق پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہراساں کیے جانے کے دو سو اکیس واقعات کیلیفورنیا، ایک سو اکانوے نیویارک، انہتر ورجینیا اور ستاون ٹیکساس میں پیش آئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک سو تیس مسلمانوں کے خلاف مقامی اور وفاقی حکام نے بعض قوانین کے اطلاق میں بھی امتیاز لیا ہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ ان واقعات کی وجہ سے اب بہت سے شہروں میں اس کے دفاتر کھل گئے ہیں اور لوگ شکایات درج کروا رہے ہیں۔ امریکہ میں اس وقت کائیر کی بیس شاخیں کام کر رہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||