’اللہ میڈ می فنی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سر پر ٹوپی اور گھنی داڑھی کے ساتھ اظہر عثمان سٹیج پر آتے ہیں اور زور دار آواز میں’ اسلام علیکم‘ کہتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں:’ ان لوگوں کو جسے اس کا مطلب نہیں معلوم، میں بتا دوں کہ اس کا مطلب ہے: میں تمھیں مار ڈالوں گا‘۔ اور ہال میں موجود حاضرین ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوجاتے ہیں۔ لیکن اظہر کے لہجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ امریکی بھی ہیں۔ ’Allah made me funny‘ نامی مزاحیہ شو امریکی مسلمان کامیڈینز کے ایک گروپ نے بنایا ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ مزاح کے ذریعے مسلمانوں خصوصاً عربوں کے بارے میں پائے جانے والے منفی تاثر اور ان کے ساتھ ہونے والے برتاؤ کو تبدیل کیا جائے۔ یہ شو پہلی مرتبہ واشنگٹن کے ایک کلب میں اس ہفتہ پیش کیا گیا ہے۔ شو میں مسلمانوں کے اس رویے کو طنزومزاح کے ساتھ پیش کیا گیا ہے کہ وہ کہیں وقت پر پہنچنے میں ہمیشہ دیر کرتے ہیں اور مساجد میں خراب ساؤنڈ سسٹم استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس سے پہلے یہودی اور افریقی نژاد امریکی بھی ایسے شو کرتے رہے ہیں۔ اس کا بنیادی خیال ایک تبلیغی شخص موسٰی نے پیش کیا تھا اور اس کا مقصد یہ تھا کہ گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد مختلف کمیونٹیز کے درمیان پیدا ہونے والے خلاء کو دور کیا جائے اور مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان بات چیت اور رابطے کو فروغ دیا جائے‘۔ اس شو کو دیکھنے کے لیے مختلف شعبۂ زندگی کے لوگ آتے ہیں جن میں ماہر پروفیشنلز سے لے کر حجاب پہننے والی خواتین۔ افریقی گاؤن اور ایشیائی شلوار قمیض پہننے والی خواتین سب شامل ہیں۔ کئی غیر مسلم بھی اس شو میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شو کے بارے میں حاضرین کا رد عمل نہایت پرجوش ہے۔ ایک خاتون کہتی ہیں ’ مزاح ہم سب کو قریب لاتا ہے‘۔ ایک مسلمان شخص کا کہنا ہے ’اس سے لوگوں کو معلوم ہوتا ہے مسلمانوں میں بھی حس مزاح موجود ہے‘۔ اظہر عثمان کہتے ہیں کہ اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ یہ بتایا جائے کہ تمام مسلمان سخت گیر نہیں ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ یہ شو مسلم ممالک مراکش، سعودی عرب، کویت ، اومان اور قطر وغیرہ میں بھی دکھایا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||