مسلمانوں کو’منانے‘ کے لیے رابطہ مہم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں گیارہ ستمبر سن دو ہزار کے واقعات کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کا نام مسلمان خصوصاً مشرق وسطٰی سے تعلق رکھنے والے امریکی شہریوں کے لیے دہشت کی علامت بن گیاہے۔ اب ایف بی آئی نے اطلاعات کےمطابق مسلمان امریکیوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے ایک خصوصی رابطہ مہم شروع کی ہے۔ اگرامریکہ کی کسی مسجد میں نماز جمعہ کے بعد ایف بی آئی کے اہلکار دکھائی دیں تو اب سے ذرا پہلے تک یقیناً یہ کوئی اچھا شگون نہیں تھا۔ لیکن فلوریڈا میں ویسٹ پام بیچ کی کاؤنٹی میں جب میں مائیکل کلیمنس اور جم گروح کو دیکھا تو کم از کم اس بار صورتحال تشویشناک نہ تھی مگر میرے لیے حیران کن ضرور تھی۔ میامی اور اس کے آس پاس کے علاقوں کے ذمہ دار ایف بی آئی کے اعلیٰ اہلکار جم کلیمنس اس خوبصورت مسجد میں لوگوں کے خدشات دور کرنے کی کوشش کررہے تھے اور ایف بی آئی کے لیے ان کا تعاون بھی چاہ رہے تھے۔ مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے ان کی گفتگو کے بعد جم کلیمنس سے پوچھ ہی لیا آخر ایف بی آئی کو یوں مساجد میں جانے کی ضرورت کیوں پڑی؟ جم کلیمنس نے بتایا کہ ایف بی آئی کے اہلکار تو دہشت گردی کے خاتمے کےلیے اپنے فرائض ادا کرتے ہیں۔ ’ادارے سے مسلم برادری کے بہت سے رہنماؤں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ہم ان کے اجتماعات سے خطاب کریں تاکہ برادری میں ہمارے کام کے لیے آگہی پیدا ہوسکے اور ہم بھی مسلم برادری کے نقطۂ نظر کو سمجھ سکیں۔ ہم تو اسی کے جواب میں یہ کام کررہے ہیں۔‘ گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد بہت سے مسلمان امریکیوں نے مساجد جانا بھی اس ڈرسے چھوڑ دیا تھا کہ کہیں محض مساجد جانے اور نمازی ہونے کی پاداش میں وہ ایف بی آئی کی نادیدہ نظروں میں نہ آجائیں۔ اگرچہ صورتحال اب تھوڑا بہت تبدیل ہوئی ہے لیکن ادارے کا خوف اور اس کے لیے گہری بداعتمادی اب بھی برقرار ہے۔ ایف بی آئی کے ایک پاکستانی نژاد ایجنٹ جاوید قریشی نے مجھے بتایا کہ گیارہ ستمبر کے بعد مسلمان بہت خوفزدہ ہوگئے تھے اور انہوں نے خود کو یہ باور کرالیا کہ ایف بی آئی مسلمانوں کی دشمن ہے جو کہ حقیقت نہیں ہے۔ ’ایک دوسرے کو سمجھنے میں دیر ضرور ہوئی ہے لیکن اب مسلمان الحمداللہ یہ بات سمجھا پارہے ہیں کہ نناوے اعشاریہ ننانوے فیصد مسلمان پرامن اور قانون کے پابند ہیں۔‘ جاوید قریشی کے مطابق مسلمانوں نے ایف بی آئی سے کہا ہے کہ اگر اس کو مسلمانوں کے حوالے سے کوئی بھی تشویش ہے تو وہ ان کے اجتماعات اور تقاریب میں آئیں اور اپنی تسلی کریں۔ گو بظاہر ان تمام باتوں میں کوئی بھی چیز قابل اعتراض نہیں لیکن ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا پوری مسلم برادری کو دہشت گردوں کا پشتیبان سمجھا جا رہا ہے۔ لوگوں کے شکوک اور شبہات کو تقویت اس حقیقت سے بھی ملتی ہے کہ ایف بی آئی کی یہ خصوصی رابطہ مہم صرف مسلم برادری میں ہی کیوں چلائی جارہی ہے؟ جم کلیمنس بھی میرے اس سوال کا کوئی جواب دینے سے قاصر رہے اور صرف یہ ہی بتا سکے کہ ادارے کے ایجنٹ مختلف طبقات میں کام کررہے ہیں لیکن وہ اس سوال کا جواب نہیں دے سکتے کہ گزشتہ تین یا چار ماہ میں ہمارےایف بی آئی کے ایجنٹ دوسری مذہبی برادریوں کے کتنے اجتماعات میں اسی طرح شریک ہوئے۔ امریکہ میں جورج بش کے دوبارہ انتخاب کے بعد مسلمان امریکیوں کو اپنے حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوجانے کا خدشہ ہے خاص طور پر اس حقیقت کے پیش نظر کہ مسلمانوں کی غیرمعمولی اکثریت نے صدر بش کے حریف سینیٹر جون کیری کی حمایت کی تھی۔ایسے میں ایف بی آئی کی خصوصی رابطہ مہم اعتماد بڑھانے میں مددگار ہوگی یا امریکی مسلمانوں کو مزید اجتماعی خوف میں مبتلا کرے گی، اس بات کا فیصلہ تو آنے والے دنوں میں ہی ہو سکے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||