امریکہ میں بیس ویب سائٹ بند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے انڈی میڈیا نے نام سے مشہور متوازی میڈیا نیٹ ورک کی بیس ویب سائٹوں کو بند کر دیا ہے۔ ایک امریکی عدالت نے ان ویب سائٹوں کے لیے ویب سپیس فراہم کرنے والی کمپنی کو حکم دیا ہے کہ وہ برطانیہ میں اپنے زیر استعمال دو سرور جمع کرادے۔ انڈی میڈیا کا کہنا ہے کہ وہ گلوبلائزیش مخالف تحریک اور دیگر سماجی انصاف کے معاملات کے لئے ایک خبری ماخذ ہے۔ اگرچہ اس اقدام کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی لیکن ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ اس نے یہ کارروائی اٹلی اور سوئٹرلینڈ کے حکام کی درخواست پر کی ہے۔ انڈی میڈیا کی ویب سائٹوں کے لیے ویب سپیس کی سہولت لندن میں دفاتر رکھنے والے ایک امریکی فرم ریک سپیس فراہم کر رہی تھی۔ ریک سپیس کو امریکی حکام کی طرف سے برطانیہ میں نسب کمپیوٹر آلات جمع کرانے کا عدالتی حکم نامہ گزشتہ جمعرات ہی ملا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ میوچل لیگل اسسٹینس کے معاہدے کے تحت کی جانے والی اس کارروائی میں تحقیقاتی اداروں سے تعاون کر رہی ہے۔ اس معاہدے کے تحت مختلف ممالک بین الاقومی دہشت گردی، اغواء اور منی لانڈرنگ جیسے معاملات کے سلسلے میں تحقیقات میں ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں۔ انڈی میڈیا کے ویب سائٹ بند کرنے کی وجوہات ابھی تک واضح نہیں ہیں۔ گروپ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انہیں گزشتہ ماہ ایف بی آئی کی طرف سے سوئس انڈرکور پولیس کے بارے میں ایک خبر ریک سپیس کے سرور پر قائم اپنے ایک ویب سائٹ سے ہٹانے کے لیےکہا گیا تھا۔ ’ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ جمعرات کو جاری ہونے والے حکم اس واقعہ سے متعلق ہے کیونکہ یہ حکم نامہ انڈی میڈیا کی بجائے ریک سپیس کو جاری کیا گیا ہے۔‘ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایف بی آئی کے ایک ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ ایف بی آئی آپریشن نہیں ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ حکم نامہ اٹلی اور سوئٹزلینڈ کے حکام کی درخواست پر جاری کیا گیا ہے۔ اس کارروائی کے خلاف انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس اور الیکٹرانک فرنٹیئر فاؤنڈیشن سمیت مختلف صحافی تنظیموں نے احتجاج کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||