ایف بی آئی کو مترجم درکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں ایک وفاقی آڈٹ رپورٹ کے دوران پتہ چلا ہے کہ ایف بی آئی کے پاس ممکنہ مشتبہ دہشت گردوں کی اتنی طویل گفتگو ٹیپ پر ریکارڈ ہے کہ اسے سننے میں لاکھوں گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد اب تک ایف بی آئی نے ایک لاکھ تیئیس ہزار گھنٹوں کی گفتگو ریکارڈ کر رکھی ہے لیکن اسے ابھی تک نہ سنا گیا ہے اور نہ اس کا ترجمہ ہی کیا گیا ہے۔ اب اس کام کے لیے ایف بی آئی اردو، عربی، فارسی اور پشتو زبان کے ماہرین بھرتی کر رہا ہے۔ گزشتہ تین برس میں ایف بی آئی میں زبان کے ماہرین کی تعداد آٹھ سو تینتیس سے بڑھ کر ایک ہزار دو سو چودہ تک پہنچ گئی ہے اور ادارے کا کہنا ہے کہ جلد از جلد مزید ماہرین کو بھرتی کرنا چاہتا ہے۔ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر رابرٹ ملر کہتے ہیں کہ اس مسئلے میں ایک مشکل ایسے لوگوں کو تلاش کرنا ہے جو اپنے کام کے ماہر بھی ہوں اور سیکورٹی کے تقاضے بھی پورے کرتے ہوں۔ اس کے علاوہ ایک مسئلہ یہ ہے کہ ادارے کے پاس ایسی معلومات جمع رکھنے کے لیے کمپیوٹروں کی تعداد بھی کم ہے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق کئی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ادارے نے وہ مواد جو نگرانی کے دوران حاصل کر کے کمپیوٹر کی ڈسک میں محفوظ کیا گیا تھا، جگہ کی قلت کے باعث ڈیلیٹ کر دیا گیا۔ گیارہ ستمبر سے پہلے ایف بی آئی کو دو ایسے پیغام ملے تھے جن کا ترجمہ گیارہ ستمبر کے کئی دن بعد کیا گیا۔ ان میں ایک پیغام یہ تھا ’میچ شروع ہونے والا ہے۔‘ ان حملوں کے بعد سے ایف بی آئی کو دی جانے والی رقم ستر ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||