 |  بائیو دہشت گردی کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں: انٹرپول |
انٹر پول نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کسی بھی ممکنہ جراثیمی دہشت گرد حملے سے نمٹنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ بین الاقوامی سیکورٹی اور پولیس کے ادارے کے سربراہ رونالڈ نوبل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد القاعدہ کی طرف سے مزید حملوں کے امکانات کم نہیں ہوئے۔ مسٹر نوبل نے اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا کہ عالمی سطح پر حکومتوں نے سیاسی مقاصد کے لئے سیکورٹی کے معاملات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ انٹر پول نے کہا کہ دنیا بھر میں ہونے والے حالیہ حملے، اس طرح کےاشارے کہ القاعدہ جراثیمی اور کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا ارداہ رکھتی ہے اور اس کی طرف سے یہ بیان کہ وہ چالیس لاکھ افراد کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں، یہ سب عوامل بہت تشویش کا باعث ہیں۔ بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں مسٹر نوبل نے کہا کہ جراثیمی یا کیمیائی حملے کے اتنے خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں کہ اس سلسلے میں نرم رویہ اختیار نہیں کیا جاسکتا۔ ’جب آپ بائیو (جراثیمی یا کیمیائی) دہشت گردی کی بات کرتے ہیں تو یہ ایک ایسا کرائم ہے جسے اسِ کے ہو جانے کے بعد حل نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اسُ وقت تک بہت زیادہ نقصان ہوچکا ہوگا۔ ہم لاکھوں افراد کی ممکنہ ہلاکت کے بعد کیا اپنے آپ کو یہ صرف اس بنیاد پر فراموش کر پائیں گے اس طرح کی دہشت گردی سے نمٹنا ہماری ترجیحات میں شامل نہیں تھا۔‘ انٹر پول مارچ کے مہینے میں فرانس کے شہر لیوں میں حیاتیاتی دہشت گردی سے متعلق ایک کانفرنس منعقد کررہی ہے جس میں دنیا بھر سے چار سو سے زیادہ پولیس اور سیکورٹی اہلکار شرکت کررہے ہیں۔ کانفرنس میں دہشت گردی کی اس قسم کے بارے میں مندوبین کو آگاہ کیا جائے گا اور اس کے ممکنہ تدارک پر غور کیا جائے گا۔ |