مبینہ دہشتگرد پر قتل کا شک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہالینڈ میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے باعث مطلوب ایک شخص پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس کا تعلق ایک ایسے گروہ سے ہے جس پر فلم ساز تتھیو وین گو کو قتل کرنے کا شبہہ ہے۔ ریسڈ بیلکاسیم جمعرات کو عدالت میں پیش کیے گئے۔ انہیں لندن سےگرفتار کیا گیا تھا اور نیدرلینڈز کی درخواست پر واپس بھیجا گیا تھا۔ استغاثے کا الزام ہے کہ ہالینڈ کے شہری بتیس سالہ شخص کے ہفستاد گروپ سے رابطے تھے۔ ان کے مقدمے کی اگلی سماعت یکم جولائی کو ہے اور اس سے پہلے ان کا ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے۔ سینتالیس سالہ وین گوگزشتہ سال نومبر میں گولی مارنے کے بعد چاقو کے وار کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ انہیں فلم ’سبمشن‘ بنانے کے بعد دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ وین گو نے فلم میں اسلام پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ عورتوں پر تشدد کو فروغ دیتا ہے۔ بیلکاسیم کو سکاٹ لینڈ یارڈ کے ایک یونٹ نے بدھ کے روز مشرقی لندن میں وائٹ چیپل کی ایک گلی سے گرفتار کیا تھا۔وہ جنوری میں برطانیہ آئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف جعلی دستاویزات بنانے، آتشیں اسلحہ رکھنے اور دہشت گردی کے لیے لوگوں کو ملازمتیں دینے کے الزام ہیں۔ عدالت میں ان کے خلاف روز مرے فرنینڈس نے الزامات کی فہرست پڑھ کر سنائی۔ انہوں نے کہا کہ ہالینڈ میں بیلکاسیم کے گھر سے کمپیوٹر فائلیں ملی ہیں جن سے جہاد کے لیے لوگوں کو ملازمتیں دینے کا عندیہ ملتا ہے۔ روزمرے نے کہا کہ ان کے ہاں سے اسلحہ اور ایک گن بھی برآمد ہوئی ہے۔ بیلکاسیم کے وکیل نے کہا کہ وہ عدالت میں لندن سے ملزم کی حوالگی کے وارنٹ کے جائز یا ناجائز ہونے کا مسئلہ اٹھائیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||