ہالینڈ: سات مبینہ شدت پسندگرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہالینڈ کی پولیس نے ہیگ میں چودہ گھنٹے کے محاصرہ کے بعد دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس محاصرہ کے دوران چار پولیس اہلکار دستی بم کے ایک دھماکے میں زخمی ہو گئے۔ گرفتارشدگان پر ’ قتل کی نیت سے دہشتگردی کے منصوبے کی سازش‘ کرنے کا الزام ہے۔ بدھ کی شب بم ڈسپوزل سکواڈ نے اس عمارت کی تلاشی لی جس کا محاصرہ کیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مسلم شدت پسندوں کے خلاف جاری اس آپریشن میں متنازعہ فلمساز تھیو واں گوغ کے قتل کے بعد سے ہالینڈ میں حالات کشیدہ ہیں۔ بدھ کو ادن میں ایک اسلامی سکول کو نذرِآتش کر دیا گیا جبکہ مساجد اور گرجا گھروں پر حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
’ہالینڈ سپور‘ ریلوے سٹیشن کے نزدیک مہاجرین کی ایک بستی پر مارے جانے والے چھاپے کے دوران شہر کے اوپر سے گزرنے والی فضائی ٹریفک کو روک دیا گیا اور گلیوں کی ناکہ بندی کی گئی تھی۔ محاصرہ شدہ عمارت کو پولیس ، خصوصی دستوں، فائربریگیڈ اور ایمبولینسوں نے گھیرے میں لیا ہوا تھا۔ آپریشن سے پہلے پولیس نے آس پاس کی عمارتوں کو خالی کر وا کر مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا تھا۔ ہیگ میں ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ شام چار بج کر تیس منٹ پر خصوصی دستوں نے عمارت پر آنسو گیس پھینکی اور عمارت میں موجود دو افراد کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے سربراہ جیراڈ بوومین کے مطابق فریقین میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور پولیس پر ایک ہینڈگرینیڈ بھی پھینکا گیا جس سے کئی پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔حکام کے مطابق ایک شدت پسند بھی پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہوا ہے۔ زخمیوں میں سے دو کی حالت نازک بیان کی جاتی ہے۔ پولیس نے اس کارروائی کو گزشتہ ہفتے ہونے والے اس فلم ساز کے قتل کے بعد کی کارروائیوں کا حصہ قرار دینے کے سوال پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ مقتول فلم ساز تھیو وان گوف کو ایک حملے میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ انہیں ان کی نئی فلم سبمشن کے بعد دھمکیاں مل رہی تھیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||