ہالینڈ کےمتنازعہ فلمساز کا قتل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہالینڈ کی پولیس کا کہنا ہے کہ اسلامی کلچر پرمتنازعہ فلم بنانے والے ہالینڈ کے فلمساز تھیو وان گوف کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے نزدیک ہی پارک سے ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔پولیس کے مطابق اس شخص کے پاس ہالینڈ اور مراکش دونوں ملکوں کی شہریت ہے۔ وان گو کو ان کی فلم’ سبمشن ‘ ہالینڈ کے ٹی وی پر دکھائے جانے کے بعد سے دھمکیاں مل رہی تھیں۔ فلم میں اسلامی معاشرے میں عورتوں کے خلاف تشدد دکھایا گیا تھا۔یہ فلم آزاد خیال سیاسی رہنما ایان حرسی علی کی زندگی پر بنائی گئی ہے۔وہ ایک صومالی بناہ گزین ہیں اور والدین کی مرضی سے ہونے والی اپنی شادی کو توڑ چکی ہیں۔ اس فلم کی نمائش کے بعد سے وہ پولیس کے تحفظ میں ہیں۔انہیں قتل کی دھمکیاں مل رہی تھیں اور انہوں نے اسلام سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ وان گوف پر ایک شخص نے اس وقت حملہ کیا جب وہ سائکلنگ پر نکلے تھے حملہ آور نے مراکش کاروایتی لباس پہن رکھا تھا۔ پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کے بعد اس شخص کو گرفتار کیا گیاجو اس وقت زخمی حالت میں اسپتال میں ہے۔ فلم ’سبمشن ‘ ایک ایسی مسلمان عورت کی کہانی ہے جس کی مرضی کے خلاف زبردستی شادی کر دی گئی ، شوہر نے اس کے ساتھ برا سلوک کیا اور انکل نے اس کے ساتھ زبردستی کی ۔ فلم پر ہالینڈ کے مسلمانوں نے اعتراض کیا تھا۔ ہا لینڈ میں تقریباً ایک ملین مسلمان رہتے ہیں۔ وان گوف کو اکثر قتل کی دھمکیاں ملتی تھیں لیکن انہوں نے ان کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||