دہشتگردی کا مسئلہ: یورپی اجلاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے وزیرِ داخلہ اور ان کے یورپی ہم منصب آج ڈربی شائر میں دہشت گردوں کے مال و دولت کا پتہ چلانے کے طریقوں پر گفتگو کر رہے ہیں مگر اس میٹنگ کو زیادہ پبلیسٹی نہیں دی گئی۔ جن ممالک کے وزراء داخلہ اس میٹنگ میں ہیں ان میں فرانس، جرمنی، اٹلی، اور سپین شامل ہیں۔ یہ اجلاس گزشتہ روز شیفیلڈ میں شروع ہوا تھا اور آج اس کا دوسرا دن ہے۔ برطانوی وزیرِ داخلہ کو امید ہے کہ یہ ’غیر رسمی‘ اجلاس یورپ کی پولیس ایجنسی انٹرپول کو منظم جرائم اور دہشت گردی جیسے معاملات سے نمٹنے میں مدد فراہم کرے گا۔ یہ منصوبہ بھی زیرِ غور ہے کہ انٹرپول دہشت گردوں کے لیے رقم لانے اور لے جانے والوں کے نیٹ ورک کا پتہ ٹیلیفون کے ریکارڈ سے لگائے۔ ڈیوڈ بلنکٹ چاہتے ہیں کہ یورپ کے پانچ ملک دہشت گردوں کے لیے رقم لانے اور لے جانے والوں کے ٹیلیفون ڈیٹا کا استعمال کریں تاکہ ان تک پہنچا جا سکے۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ یورپ کے ممالک کے درمیان خفیہ معلومات کے تبادلے اور ڈی این اے کے سلسلے میں بھی تعاون بڑھ جائے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مارچ کے مہینے میں میڈرڈ کے بم دھماکوں کے بعد خطرات بڑھنے کے باوجود یورپ کی پولیس میں تعاون قدرے کم رہا ہے۔ تاہم برطانیہ نے کچھ اقدامات کیے ہیں جن میں ڈی این اے ڈیٹابیس کا قیام بھی ہے لیکن یورپ کے دوسرے ملکوں کو بھی اس طرح کے طریقوں پر قائل کرنا کچھ دشوار سا ہے۔ یورپی اتحاد میں شامل ممالک اس بات پر تکرار کر سکتے ہیں کہ ڈی این اے کے نمونے عدالتوں میں بھی پیش کیے جا سکتے ہیں اور پھر یہ مسئلہ درپیش ہوگا کہ ان نمونوں تک کسے رسائی حاصل ہو اور کسے نہیں۔ تاہم دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے اور کثیرالقومی رویہ اختیار کرنے کے لیے یورپی وزراء کو اپنے روایتی مفادات اور بیوروکریسی کی وجہ سے پیدا ہونے والی مشکلات کا بھی خاتمہ کرنا پڑے گا۔ برطانیہ میں ہوم آفس کے ایک ترجمان کے مطابق برطانیہ میں ڈی این اے ڈیٹا بیس ہے لیکن ڈربی شائر کے اجلاس میں شامل وزراء کو اس پر غور کرنا ہے کہ پورے یورپ میں ایسا ہی ڈیٹا بیس قائم ہو جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||