الجزیرہ کا نیا امیج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عرب نیوز چینل الجزیرہ کی پیشکش کے طریقہ کار میں تبدیلی لائی جا رہی ہے۔ حالات حاضرہ کے بارے میں اپنی رپورٹنگ اور متنازعہ مسائل کے بارے میں خبروں کی وجہ سے عرب دنیا میں الجزیرہ کے لاکھوں مداح موجود ہیں۔ الجزیرہ چینل کو امریکہ کی جانب سےشدید تنقید کا سامنا بھی رہا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ چینل امریکہ کے خلاف پروپیگنڈہ کرتا ہے۔ اس نیوز چینل کی نشریات پر مختلف عرب ممالک میں بھی حکومت پر تنقید کرنے کی بنا پر پابندی لگائی جا چکی ہے۔ گزشتہ چند برس کے دوران عراق، فلسطین اور افغانستان میں جاری صورتحال کی رپورٹنگ کے دوران الجزیرہ چینل پر بہیمانہ تشدد کے مناظر بھی دکھائے جاتے رہے ہیں جن کے بارے میں الجزیرہ کے مدیران کا کہنا ہے کہ حقیقت کی تصویر کشی کے لیے ان مناظر کا دکھایا جا نا ضروری تھا۔
تاہم اب اس چینل کے مدیران اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ الجزیرہ پر وسیع تر موضوعات کے پروگرام پیش کیے جائیں۔الجزیرہ کے مالکان کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ اب ان کا چینل عوامی دلچسپی کی خبروں پر زیادہ توجہ دے۔ چینل کے چیف ایڈیٹر احمد الشیخ کا کہنا تھا کہ ’ ہم چاہتے ہیں کہ مستقبل میں ہم عام انسان کی امیدوں اور تکالیف کی منظر کشی کریں اور ان پہلوؤں پر بات کریں جن پر اب تک کچھ کام نہیں کیا گیا ہے۔‘ اسی سلسلے میں الجزیرہ ٹی وی سٹیشن میں بھی متعدد تبدیلیں لائی گئی ہیں۔ دس برس قبل قطر میں الـجزیرہ کے آغاز کے وقت قائم کیے جانے والے نیوز روم کو بھی ایک جدید نیوز روم میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اور نئے نیوز روم میں نیوز کاسٹر کے پیچھے عرب کے روایتی اور مغربی ملبوسات میں کام کرتے ہوئے افراد کو دیکھا جا سکتا ہے۔ الجزیرہ چینل کے شناختی نشان کو بھی تبدیل کر دیا گیا ہے اور نئے نشان میں الجزیرہ کا نام سنہری حروف میں سمندر کی لہروں سے بلند ہوتا دکھایا گیا ہے۔ الجزیرہ چینل میں آنے والی تبدیلیوں سے اس بات کی امید بھی پیدا ہو گئی ہے کہ انگریزی زبان میں بھی الجـزیرہ کی نشریات کے آغاز میں اب زیادہ دیر نہیں ہے اور کہا جا رہا ہے کہ آئندہ چھ ماہ کے دوران الجزیرہ سے انگریزی زبان میں نشریات کا آغاز ہو سکتا ہے۔ حال ہی میں کروائے گئے ایک سروے کے دوران الجزیرہ کو دنیا کا پانچواں طاقتور ترین برانڈ تسلیم کیا گیا ہے اور دنیا بھر میں چار کروڑ سے زیادہ افراد اس چینل سے مستفید ہوتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||