BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 March, 2005, 12:32 GMT 17:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لیگ کانفرنس نااتفاقی کا نشان
عرب
کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ لیگ اہم فیصلے کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔
ایسے وقت میں جب الجزیرہ میں عرب لیگ کا اجلاس جاری ہے عرب دنیا میں سنکی لوگ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ’عربوں نے نااتفاقی پر اتفاق کر لیا ہے۔‘

عرب رائے عامہ نے بہت عرصہ پہلے یہ سیکھ لیا ہے کہ عرب لیگ کے اجلاس ہمیشہ مایوس کن ہوتے ہیں۔ بہت سے موقعوں پر کانفرنس جھگڑوں کا شکار ہوئی جو عربوں کے درمیان نااتفاقی کی نشاندہی کرتی ہے۔

گزشتہ سال لیبیا کے رہنما معمر قدافی ابتدائی سیشن ہی میں وہاں پر موجود تمام شرکاء کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اجلاس سے نکل گئے۔اس سے قبل امریکہ کے عراق پر حملے سے دو ہفتے پہلے شرم الشیخ کے اجلاس میں بھی انہوں نے سعودی عرب کے رہنما شہزادہ عبداللہ کے ساتھ تلخ کلامی کی تھی۔

اس اجلاس میں بھی عرب رہنما بغداد کے لیے حمایتی بیانات کے علاوہ کچھ اور کرنے میں ناکام رہے۔ امریکہ پہلے ہی عراق پر حملہ کرنے لے لیے اس کے پڑوسی عرب ممالک کی سرزمین استعمال کرنے کے لیے انتظامات کر چکا تھا۔

عرب لیگ کے زیادہ تر اجلاس ایسی قراردادیں پاس کرنے کے بعد ختم ہوجاتے ہیں جنہیں عرب رہنما ہال سے باہر آکر بھول جاتے ہیں۔ عرب لیگ کے قانون کے مطابق کسی بھی قرارداد کی منظوری کے لیے تمام ارکان کی اتفاق رائے ضروری ہوتی ہے۔

چونکہ تمام ارکان اکثر مطمئن نہیں ہوتے اس لیے عربوں کے آپس کے جھگڑے حل نہیں ہو پاتے۔

News image
عرب لیگ کی قرار دادوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ بے معنی ہوتی ہیں

موجودہ کانفرنس میں لبنان میں شام کی فوجوں کی موجودگی کا مسلہ کانفرنس کے باقاعدہ ایجنڈے میں شامل ہی نہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دمشق اور بیروت نے اسے ایجنڈے میں شامل نہیں کیا۔

اس مسئلے کی ایجنڈے میں عدم شمولیت پر تنقید کرتے ہوئے مشہور سعودی کالم نگار عبدالرحمان الرشید نے لکھا کہ ’عرب لیگ کی عادت ہے کہ وہ مریض کا علاج اس کی موت کے بعد کرتی ہے۔‘

گو عرب لوگ اپنے رہنماؤں کی کمزوریوں سے بخوبی واقف ہیں انہوں نے ایک متحدہ عرب دنیا کے خواب دیکھنے نہیں چھوڑے۔

لیکن کچھ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ لوگ عرب لیگ سے زیادہ توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ الاحرام سنڑ فار پولیٹیکل اینڈ سٹریٹیجک سٹڈیز کے ڈائریکٹر عبدالمونیم سید کا کہنا ہے کہ ’ایسے لوگ جن کا خیال تھا کہ لیگ فلسطین کا مسئلہ حل کر لے گی یا عرب اتحاد میں کامیاب ہو جائے گی کچھ زیادہ ہی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں۔لیگ ایک ایسا فورم بنانے میں کامیاب ہوئی ہے جہاں پر عرب ممالک اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں اور دنیا کو آگاہ کر سکتے ہیں۔‘

لیکن یہ بات طے ہے کہ لیگ آپس کے جھگڑوں کی وجہ سے مقامی تنظیم کی حیثیت سے نہیں ابھر سکی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد