BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 November, 2005, 22:40 GMT 03:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہم قیدیوں پر تشدد نہیں کرتے: بش
 مشرقی یورپ میں سی آئی اے کے خفیہ جیل: واشنگٹن پوسٹ
مشرقی یورپ میں سی آئی اے کے خفیہ جیل: واشنگٹن پوسٹ
صدر جارج بش نے امریکی تحویل میں قیدیوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ پوچھ گچھ کے دوران تشدد کا استعمال نہیں کرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم تشدد نہیں کرتے۔‘

پانامہ میں صدر مارٹن ٹوریہوس کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران صدر بش نے کہا کہ دشمنوں کے خلاف امریکہ کی جنگ جاری ہے اور امریکی عوام کا دفاع ان کی پہلی ترجیح ہےتاہم قانون کی بالادستی کو برقرار رکھا جائےگا۔

امریکی سینیٹ تشدد کے خلاف قانون منظور کر چکی ہے لیکن بش حکومت کی کوشش ہے کہ سی آئی اے کو اس قانون سے مستثنی کیا جائے۔

واشنگٹن پوسٹ کی ایک خبر کے مطابق سی آئی اے نے مشرقی یورپ اور ایشیا میں قیدیوں کو خفیہ جیلوں میں بند رکھا ہوا تھا۔ یہ جیلیں اب ختم کر دی گئی ہیں۔ ہر جیل میں تقریباّ 30 قیدیوں کو رکھا جاتا تھا۔ وائٹ ہاؤس نے اب تک اس خبر کو تردید نہیں کیا۔

اتوار کو تشدد کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے یورپی حکومتوں پر زور دیا کہ ان الزامات پر تحقیقات کی جائیں۔

علاوہ ازیں امریکی سپریم کورٹ نے بش حکومت کی غیر ملکی قیدیوں کے خلاف خصوصی عدالتوں میں مقدمہ چلانےکی پالیسی پر قانونی کارروائی کر نے کی اجازت دے دی ہے۔

کورٹ جون تک فیصلہ کرے گی کہ اسامہ بن لادن کے سابق ڈرائیور کے خلاف جنگی جرائم کے الزام میں گوانتانامو بے کی فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے یا نہیں۔

یمن سے تعلق رکھنے والے سلیم احمد حمدان کا مقدمہ گزشتہ سال روک دیا گیا تھا جب جج نے کہا کہ پہلے یہ فیصلہ کیا جائے کہ حمدان جنیوا کنونشن کے تحت جنگی قیدی ہیں یا نہیں۔

حمدان کے وکلا نے درخواست کی تھی کہ انہں سول کورٹ میں لا یا جائے کیونکہ امریکہ کے اپنے قوانین کے تحت فوجی عدالتیں غیر قانونی ہیں۔

حمدان افغانستان میں اسامہ بن لادن کیلۓ 1997 سے لےکر 2001 تک کام کرتے رہے اور انہوں نے دعوی کیا ہے کہ وہ القاعدہ کے رکن نہیں ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد