گوانتانامو: قیدی بھوک ہڑتال پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی امدادی ادارے ریڈ کراس نے گوانتانامو بے میں واقع امریکی جیل میں قیدیوں کی بھوک ہڑتال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ریڈ کراس کی ترجمان انتونیلا نوتاری نے بتایا کہ قیدیوں کی حالت سنگین ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ریڈ کراس گوانتاناموبے کے دورے پر حاصل کی جانے والی معلومات کی تفصیلات نہیں جاری کرے گا۔ ریڈ کراس شاید ہی کبھی اپنے خدشات کا اظہار عوامی سطح پر کرتا ہے لیکن ایسا اس نے صرف ان قیدیوں کی بھوک ہڑتال کے بارے میں کیا ہے۔ امریکی فوج نے کہا کہ اٹھائیس قیدی بھوک ہڑتال پر ہیں۔ امریکی فوج کی تشریح کے مطابق بھوک ہڑتال اس وقت تصور کیا جاتا ہے جب کوئی قیدی مسلسل نو وقت کھانا نہ کھائے۔ امریکی فوج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ بھوک ہڑتال کرنے والے طبی طور پر مستحکم ہیں اور پینے کی چیزیں اور خوراک قبول کررہے ہیں۔ کچھ قیدیوں کے وکیلوں کا کہنا ہے کہ ترجمان کے بیان کا مطلب یہ ہوا کہ بھوک ہڑتال والے قیدیوں کو زبردسی کھلایا جارہا ہے۔ ایک برطانوی وکیل کلائیو اسٹافرڈ اسمتھ نے امریکی فوج پر مریضوں کو بستر سے باندھ کررکھنے کا الزام لگایا ہے تاکہ ان کے جسم میں کھلانے والے ٹیوب لگائے جاسکیں۔ کئی وکیلوں نے بھوک ہڑتال کرنے والے قیدیوں کی تعداد کافی زیادہ بتائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پانچ سو قیدیوں میں سے لگ بھگ دو سو نے کھانے پینے سے انکار کردیا ہے۔ گوانتانامو میں بھوک ہڑتال کی خبریں پہلی بار گزشتہ جولائی میں سامنے آئیں تھیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ کچھ قیدیوں نے وقتا فوقتا احتجاج کے طور پر ایسا کیا لیکن پھر سے حسب معمول کھانا کھانے لگے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||