BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 June, 2005, 12:37 GMT 17:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’گوانتانامو مقامی جیلوں سے بہتر‘

گوانتانومو سے رہائی پانی والے
گوانتانومو سے رہائی پانی والے قیدیوں نے الزام لگایا ہے کہ امریکی فوجیوں نے قرآن کی برحرمتی کی۔
ضلع بہاولنگر کی تحصیل منچن آباد کے چوبیس سالہ درزی محمد ارشد جب چار سال پہلے قیدی بن کر گوانتانامو بے گئے تو ان کی دونوں آنکھیں تھیں اب وہ کوٹ لکھپت جیل سے رہا ہوکر واپس گھر جارہے ہیں تو داہنی آنکھ کی جگہ پتھر جڑا ہوا ہے۔

محمد ارشد نے کہا کہ ’ایک سولجر نے پنچ مارا تو آنکھ ضائع ہوگئی اور اس کا آپریشن کرکے انہوں نے پتھر کی مصنوعی آنکھ لگا دی۔‘

محمد ارشد کا کہنا ہے کہ وہ کہہ نہیں سکتے کہ انہیں اپنی آنکھ ضائع ہونے کا زیادہ افسوس ہے یا اس بات کا ان کی زندگی کے چار سال بغیر کسی جرم کے قید میں گزر گئے۔

تاہم گوانتانامو بے میں تین سال گزار کر آنے والے محمد ارشد کو جس بات کا بہت افسوس ہے وہ یہ کہ تین بار امریکی فوجیوں نے، انہیں ان کے بقول، پریشر میں لانے کے لیے ان کے قرآن مجید کے نسخہ کی توہین کی گئی۔

محمد ارشد آج لاہور میں واقع پنجاب کی سینٹرل جیل سے رہا ہونے والے ان سترہ قیدیوں میں سے ہیں جو تقریباً نو ماہ پہلے بے گناہ قرار دے کر امریکہ کی گوانتانامو بے جیل سے تو رہا کردیے گئے تھے لیکن پاکستانی حکام نے انہیں مزید تفتیش کے لیے پنجاب کی مختلف جیلوں میں رکھا گیا اور سوموار کی سہ پہر کو انہیں رہا کر دیا گیا۔

گوانتاموبے قیدی

محمد ارشد کہتے ہیں کہ گوانتانامو بے میں امریکی فوجی انہیں مارتے تو زیادہ نہیں تھے لیکن انہیں دباؤ میں لانے کے لیے ذہنی تناؤ دیتے تھے جیسے ننگا کردینا، داڑھی مونڈ دینا اور ایک دفعہ ان کے قران پر گندا پانی ڈال دیاگیا، دوسری دفعہ قران مجید کو ٹھوکر لگائی اور تیسری بار زمین پر پھینک دیا۔

محمد ارشد کہتے ہیں کہ ہر قیدی کو چھ ضرب آٹھ کے پنجرہ میں رکھا گیا تھا اور کوئی بھی فوجی ایسا نہیں تھا جس کی انہیں کوئی بات اچھی لگی ہو۔انہیں گالیاں دینا ان کا معمول تھا اور کسی کے دل میں ان کے لیے ہمدردی نہیں تھی۔

محمد ارشد نے پنجاب حکومت کی طرف سے رہائی کے فورا بعد دیے جانے والا کھانے کا مرغ قورمہ سے نوالا بنا کر بے تابی سے منہ میں ڈالتے ہوئے کہا کہ ’پینے کوگرم پانی اور کھانے کو اُبلا ہوا ملتا تھا جس میں نمک نہ مرچ نہ گھی ہوتا۔‘

تاہم محمد ارشد یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ گوانتانامو بے کی جیل پاکستان کی چند جیلوں سے بہتر تھی، فیصل آباد کی جیل سے تو ضرور بہتر تھی جہاں انہیں پانچ ضرب پانچ کی چکی میں رکھا گیا اور پینے کو پانی تھا اور نہ اس شدید گرمی میں کوئی پنکھا تھا۔

اسی طرح لاہور کے علاقہ سنت نگر سے تعلق رکھنے والے رہا ہوکر آنے والے قیدی احسان سعید کے بھائی خواجہ عمران کہتے ہیں کہ امریکی جیسے بھی تھے انہوں نے قید کے دوران میں ان کے بھائی کو کھانے پینے کو دیا اور ان کے علاج معالجہ کا انتظام بھی کیا لیکن پاکستان کی جیلوں میں جب یہ گندا پانی اور ناقص خوراک کھا کر پیٹ کی بیماری میں مبتلا ہوئے تو وہ خود انہیں دوا پہنچا کر آئے لیکن جیل کے عملہ نے اندر ان تک نہیں پہنچائی۔

اُن کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ احسان سعید کو ساہیوال جیل میں رکھاگیا جہاں سزائےموت کی چکیوں میں چار چار قیدی بند کیے گئے اور وہ ٹائلٹ سے شدید گرمی سے اُبلا ہوا پانی پینے پر مجبور تھے۔

احسان سعید کے بھائی کا کہنا ہے کہ گوانتانامو بے سے ان کے قید ہونے کے ایک سال بعد ریڈ کراس کے ذریعے خط آیا تھا جس میں صرف خیر خیریت درج تھی اور باقی تحریر کو نشان زدہ کرکے پڑھنے کے قابل نہیں رہنے دیاگیا تھا۔

احسان سعید کے ملتان سے آئے ہوئے ماموں اختر بٹ کہتے ہیں کہ حکومت بتائے کہ اس نے نو ماہ تک ان قیدیوں کو امریکہ سے آنے کے بعد نو ماہ تک کس قانون کے تحت قید رکھا جبکہ امریکہ میں بھی یہ ثابت ہوگیا تھا کہ وہ بے قصور ہیں۔

News image

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے عدالت میں رٹ درخواست اس لیے نہیں کی کہ انہیں ڈر تھا کہ احسان سعید کی جان کو خطرہ ہوگا اور عدالتیں بھی تو وہی کرتی ہیں جو حکومت کہتی ہے۔

پنجاب حکومت کے مشیر طاہر اشرفی کہتے ہیں کہ جن لوگوں کو نو ماہ بعد رہا کیا گیا ہے ان کی اچھی طرح تفتیش کی گئی کہ وہ پاکستان میں کسی تخریب کاری یا دہشت گردی میں ملوث نہیں تھے اور یا ان کی ایسی برین واشنگ تو نہیں ہوئی کہ وہ کسی ایسی سرگرمی میں آئندہ ملوث ہوسکیں۔

مشیر کا کہنا ہے کہ ان رہا کیے جانے والوں کے لواحقین سے ضمانت لی گئی ہے کہ وہ کسی ملک دشمن سرگرمی میں ملوث نہیں ہوں گے۔

رہا ہونے والے اکثر نوجوان تھے اور بیشتر کا تعلق پنجاب کے مختلف اضلاع سے تھا اور وہ یا تو مدرسے کے طالبعلم تھے یا مزدوری پیشہ تھے۔ ان قیدیوں کو لینے کے لیے ان کے رشتے دار آئے ہوئے تھے جنہیں دیکھ کر یہ ان سے لپٹ گئے اور آبدیدہ ہوگئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد